
’یہ ممکن نہیں کہ اپنے شہروں اور قصبوں پر بمباری کے بعد بھی صدر الاسد حکومت کرتے رہیں‘
شام میں حکومت کے مخالف گروہوں نے صدر بشار الاسد کی جانب سے ملک بھر سے تشدد کے خاتمے کی یقین دہانیوں کو مسترد کر دیا ہے۔
حزبِ مخالف کے گروہوں کا کہنا ہے کہ صدر الاسد کھوکھلے وعدے کر رہے ہیں جبکہ امریکہ نے بھی اس اعلان کو مشکوک قرار دیا ہے۔
شام کے صدر بشارالاسد نے روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاورو سے ملاقات میں کہا تھا کہ وہ ملک میں جاری تشدد کو ختم کر کے حزبِ مخالف سے بات چیت کریں گے اور سیاسی اصلاحات لائیں گے۔
تاہم اس یقین دہانی کے باوجود شامی حکومت کی افواج نے حمص اور دیگر ایسے شہروں میں کارروائی جاری رکھی ہے جو اپوزیشن کا گڑھ ہیں۔
منگل کو صدر الاسد سے ملاقات کے بعد روسی وزیرِ خارجہ نے بھی شامی حکومت اور حزبِ اختلاف سے مذاکرات کی اپیل کی تھی۔
سرگئی لاورو نے کہا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ شامی صدر فوری اقدامات کی اہمیت کو سمجھ گئے ہیں۔
روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاورو نے یہ بھی کہا کہ شام کے بحران کا حل عرب لیگ کے بتائے ہوئے منصوبے کے مطابق ہونا چاہیے۔ اس سے پہلے روس اور چین نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام سے متعلق قرارداد کو ویٹو کر دیا تھا۔
روسی وزیرِ خارجہ کے دورۂ دمشق پر تبصرہ کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے کہا ہے کہ ’روس کو یہ سمجھنا چاہیے کہ صدر الاسد پر داؤ لگانا نہ صرف شام میں روس کے مفادات بلکہ شام کے مستقبل اور خطے کی سلامتی کے لیے ایک ناکام ترکیب ہے‘۔
"روس کو یہ سمجھنا چاہیے کہ صدر الاسد پر داؤ لگانا نہ صرف شام میں روس کے مفادات بلکہ شام کے مستقبل اور خطے کی سلامتی کے لیے ایک ناکام ترکیب ہے۔"
جے کارنی، ترجمان وائٹ ہاؤس
شام کے سرکاری خبررساں ادارے ثناء نے بتایا ہے کہ صدر الاسد کا کہنا ہے کہ وہ بحران کے حل کے لیے ہر قسم کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
تاہم اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری خونریزی کا مطلب یہ ہے کہ اب صدر الاسد کی جانب سے کسی مفاہمت کی پیشکش کا وقت گزر چکا ہے۔
جلاوطن شامی رہنما کمال اللبوانی نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ممکن نہیں کہ اپنے شہروں اور قصبوں پر بمباری کے بعد بھی صدر الاسد حکومت کرتے رہیں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’وہ اپنی فوجی قوت کے استعمال میں اضافہ کر رہے ہیں اور اس سے وہ یا شام کو افراتفری کی جانب دھکیلنا یا مذاکرات کے لیے اپنی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتے ہیں‘۔
ادھر خلیجی عرب ریاستوں نے شام کے سفیروں کو بے دخل کرنے اور شام میں موجود اپنے سفارتکاروں کو واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔
خلیجی تعاون کی کونسل کا کہنا ہے کہ شام نے گیارہ ماہ سے جاری خون ریزی کو روکنے اور بحران کے حل کے لیے عرب لیگ کی تجاویز کو مسترد کر دیا ہے۔

صدر الاسد کا کہنا ہے کہ وہ بحران کے حل کے لیے ہر قسم کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہیں
یہ اقدام شامی حکومت کی جانب سے شورش زدہ شہر حمص میں جاری شدید حملے اور روسی حکام کے دورۂ دمشق کے بعد اٹھایا گیا ہے۔
خلیجی تعاون کی کونسل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’رکن ممالک نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ شام سے اپنے سفیروں کو واپس بلائیں گے اور اسی طرح شام کے سفیروں سے کہا جائے گا کہ وہ فوری طور پر واپس چلے جائیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’شامی حکومت کی جانب سے بحران کے حل کے لیے تمام کوششوں کو مسترد کرنے اور خونریزی کے خاتمے کے لیے عرب لیگ کے تمام پرخلوص کوششوں کو ضائع کردینے کے بعد ان لوگوں (شام کے سفیروں) کے لیے یہاں رُکنے کا کوئی جواز نہیں رہ جاتا‘۔
خلیجی تعاون کی کونسل کا کہنا ہے کہ ان کا تمام عرب ریاستوں سے مطالبہ ہے کہ عرب لیگ کے آئندہ اجلاس میں اس حوالے سے ضروری اقدامات کیے جائیں۔
اس سے قبل امریکہ نے بھی پیر کے روز شام میں موجود اپنا سفارتخانہ بند کر دیا تھا جبکہ کئی یورپی ریاستوں نے بھی شام میں تعینات اپنے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا تھا۔

















