
حکمران فوجی کونسل نے ان کارکنوں پر مصر میں شورش بھڑکانے کا الزام لگایا ہے
تین اہم امریکی سینیٹروں نے مصر کو خبردار کیا ہے کہ مصر جس طرح ایک تنگ سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے اس سے امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات میں مزید دراڑیں پڑ سکتی ہے۔
سینیٹر جان مکین، کیلی ایوت اور جو لائبرمین نے ایک بیان میں کہا کہ مصر کے لیے امریکی پارلیمان کی حمایت جس میں مالی امداد بھی شامل ہے ’خطرے‘ میں پڑ سکتی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مصر کی حکومت کے ساتھ موجودہ بحران اس نہج پر پہنچ گیا ہے کہ اب اس سے ہمارے طویل اشتراک کو خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔
اتوار کو مصر نے کہا تھا کہ وہ غیر سرکاری تنظیموں کی فنڈنگ کے سلسلے میں جمہوریت حامی تینتالیس کارکنوں پر مقدمہ چلائے گا جن میں انیس امریکی ہیں۔
حکمران فوجی کونسل نے ان کارکنوں پر مصر میں شورش بھڑکانے کا الزام لگایا ہے۔
امریکی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اسے اس واقع پر شدید تشویش ہے اور وہ اس سلسلے میں مصر کے حکام سے وضاحت طلب کر رہے ہیں۔
مصر امریکہ کا ایک اہم اتحادی عرب ملک ہے اور اس وقت واشنگٹن مصر کو ہر سال ایک سو تین ارب ڈالر کی فوجی اور ڈھائی سو ملین اقتصادی امداد فراہم کرتا ہے۔
امریکی پارلیمان کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مصر میں سرگرم امریکی غیر ملکی تنظیموں کو حراساں کرنا بند کیا جائے۔
اس بیان سے پہلے مصر کے وفد نے واشنگٹن میں پارلیمان اور دیگر سیاستدانوں کے ساتھ ملاقات اچانک منسوخ کر دی تھی۔
وائٹ ہاؤس نے بھی خبردار کیا ہے کہ امریکی کارکنوں کے خلاف کارروائی دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کو متاثر کر سکتی ہے۔

















