
الیاس کشمیری کالعدم تنظیم حرکت الجہاد الاسلامی کے سربراہ تھے
امریکی شہر شکاگو کی عدالت میں ایک پاکستانی نژاد امریکی شہری نے شدت پسند رہنما الیاس کشمیری کی مالی مدد کا اعتراف کر لیا ہے۔
اٹھاون سالہ راجہ لہراسب خان پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پیدا ہوئے تھے اور انیس سو ستّر کی دہائی میں امریکہ منتقل ہوگئے تھے جہاں وہ ٹیکسی چلاتے تھے۔
انہیں امریکی حکام نے دو ہزار دس میں گرفتار کیا تھا اور ان پر الزام تھا کہ انہوں نے پاکستان میں موجود ایک شخص کے ہاتھوں، ساڑھے نو سو ڈالر الیاس کشمیری کو بھجوائے۔
الیاس کشمیری کالعدم تنظیم حرکت الجہاد الاسلامی کے سربراہ تھے اور امریکی حکام کے مطابق، یہ تنظیم القاعدہ سے منسلک ہے۔ جون دو ہزار گیارہ میں پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ایک ڈرون حملے میں الیاس کشمیری کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
راجہ لہراسب نے شکاگو کی عدالت میں اقبالِ جرم کرتے ہوئے بتایا کہ کشمیر کی تحریکِ آزدی کے دوران، اُن کے الیاس کشمیری کے ساتھ تعلقات رہے اور انہوں نے امدادی رقم جہادی سرگرمیوں کے لیے بھجوائی۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ پہلے سنہ دو ہزار پانچ اور پھر دو ہزار آٹھ میں الیاس کشمیری سے ملے تھے۔
اُن کے وکیل کے مطابق، مقدمے کی سنگینی کی وجہ سے جیوری کا انتخاب ممکن نہیں ہو رہا تھا اس لیے استغاثہ کے ساتھ معاہدے کے تحت راجہ لہراسب نے عدالت میں اقبالِ جرم کیا۔
تھامس ڈرکن کا کہنا تھا کہ ’القاعدہ کا ذکر آتے ہی لوگ ڈر جاتے ہیں۔ یہ مشکل مقدمہ تھا اور یہ معاہدہ (اعترافِ جرم) منصفانہ ہے۔ وہ کشمیر کی آزادی کے حامی ہیں اور جو پیسہ انہوں نے بھیجا وہ کشمیر کی آزادی کے مہم کے لیے تھا، نہ کہ القاعدہ کے لیے‘۔
مقدمے کے دوران سرکاری وکیل نے بھی تسلیم کیا ہے کہ راجہ لہراسب سے امریکہ کی داخلی سلامتی کو فوری طور پر کوئی خطرہ نہیں تھا۔ اب انہیں تیس مئی کو سزا سنائی جائے گی جس کی زیادہ سے زیادہ مدت پندرہ سال قید ہو سکتی ہے۔
وکیل صفائی نے امکان ظاہر کیا ہے کہ اعترافِ جرم کے بعد انہیں پندرہ سال قید کی بجائے نصف سزا ہو گی۔

















