
ایران سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ایرانی حکام نے کچھ ایسے افراد کو گرفتار کیا ہے جو مبینہ طور پر بی بی سی فارسی کے لیے کام کرتے ہیں۔
بی بی سی فارسی پر اس وقت ایران میں پابندی ہے۔
خبر رساں ایجنسی مہر کے بقول یہ لوگ خبریں جمع کرنے کے علاوہ ایرانی صحافیوں کی تربیت اور انہیں روزگار مہیا کرنے کا کام کرتے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ان صحافیوں کے لیے بیرونِ ملک سفر کا بھی انتظام کیا۔
بی بی سی کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بی بی سی فارسی کا کوئی بھی صحافی ایران کے اندر موجود نہیں۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ گرفتاریاں ان تمام لوگوں کے لیے باعثِ تشویش ہونا چاہیئیں جو آزاد میڈیا میں یقین رکھتے ہیں۔
جمعہ کو بی بی سی نے ایرانی حکام پر الزام لگایا تھا کہ ایرانی حکام فارسی سروس کے ملازمین کے رشتہ داروں کو تنگ کر کے انہیں دھمکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل مارک تھامسن کا کہنا تھا کہ بی بی سی کو نئی طرز کے پریشان کن اقدامات کا سامنا ہے جن میں ایران سے باہر کام کرنے والوں کے خاندانوں کو نشانہ بنانا شامل ہے۔
اپنے بلاگ میں مارک تھامسن نے کہا کہ بی بی سی فارسی کے اہلکاروں کے لیے حکام کا تنگ کرنا اور مداخلت کرنا معمولِ زندگی بن گیا ہے۔
گزشتہ ہفتے بی بی سی فارسی کے ایک اہلکار کی بہن کو تہران جیل میں رکھا گیا۔
ایران نے بی بی سی پر الزام لگایا ہے کہ صدر محمود احمدی نژاد کے دو ہزار نو میں دوبارہ انتخابات میں کامیابی کے بعد انہوں نے بغاوت کروانے کی کوشش کی۔ ایران بی بی سی پر برطانوی انٹیلیجنس کے لیے کام کرنے کا الزام بھی لگاتی ہے۔
بی بی سی فارسی نے کچھ ایسی ویڈیوز نشر کی ہیں جن میں مظاہرین نے سرکاری حکام کے ہاتھوں ہلاکتوں اور تشدد کو دکھایا گیا ہے۔

















