
اس واقعہ میں فرانسیسی مسلح افواج کے دیگر 16 افسران زخمی بھی ہوئے ہیں
فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی نے کہا ہے کہ فرانسیسی فوجی افغان فوجیوں کی تربیت کا عمل دوبارہ شروع کر دیں گے لیکن ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کا ملک افغانستان سے اپنے بیشتر فوجی دو ہزار تیرہ کے اواخر تک نکال لے گا۔
فرانس نے افغان فوج کے ساتھ مشترکہ ٹریننگ پروگرام ایک افغان سپاہی کے ہاتھوں چار فرانسیسی فوجیوں کو ہلاکت کے بعد منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
فرانسیسی فوجیوں کا یہ انخلاء نیٹو کی مقررہ کردہ ڈیڈ لائن سے ایک سال پہلے ہی مکمل ہو جائےگا۔
ادھر افغان صدر حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ افغانستان فرانسیسی فوجیوں کے انخلاء کے بعد مزید ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے تیار ہے۔
نکولس سرکوزی نے افغان فوجی کے ہاتھوں چار فرانسیسی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد جلد انخلاء کا اشارہ دیا تھا۔ انہوں نے اس بات کا باقاعدہ اعلان افغان صدر حامد کرزئی سے بات چیت کے بعد کیا۔
فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ پیرس میں ہونے والی اس بات چیت میں انہیں یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ فرانسیسی فوجیوں کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔
اس وقت افغانستان میں فرانس کے تین ہزار چھ سو فوجی تعینات ہیں۔ فرانس ان میں سے ایک ہزار فوجیوں کو رواں سال واپس لانا چاہتا ہے اور دو ہزار تیرہ کے بعد افغانستان میں فرانس کے چند سو فوجی ہی موجود رہیں گے۔
پیرس میں بی بی سی کے نامہ نگار کرسچیئن فریزر کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ یقینی طور پر عوامی خواہشات کو مدِنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ جمعرات کو فرانس میں شائع ہونے والے ایک سروے کے مطابق چوراسی فیصد فرانسیسی چاہتے ہیں کہ رواں سال کے آخر تک تمام فرانسیسی فوج افغانستان سے واپس آ جائے۔
نامہ نگاروں کے مطابق فرانس اس وقت افغانستان میں سالانہ پانچ سو ملین یورو خرچ کر رہا ہے اور حکومت کے لیے ان اخراجات کا دفاع مشکل ہوتا جا رہا ہے۔





















