
فرانسیسی فوجیوں کا یہ انخلاء نیٹو کی مقررہ کردہ ڈیڈ لائن سے ایک سال پہلے ہی مکمل ہو جائےگا
افغانستان سے فرانسیسی فوج کے انخلاء کے فیصلے کے بعد افغانستان کے صدر حامد کرزئی برطانیہ میں وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرن سے تبادلہ خیال کریں گے۔
حامد کرزئی اور ڈیوڈ کیمرون ایک معاہدے پر دستخط کریں گے جس میں اس بات پر غور کیا جائے گا کہ دونوں ممالک برطانوی افواج کی سنہ دو ہزار چودہ میں افغانستان سے انخلاء کے بعد کس طرح مل کر کام کریں گے۔
کیمرون کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ کرزئی کے ساتھ افغانستان میں فوجیوں کو تربیت دینے کے سلسلے میں ایک معاہدے پر بھی دستخط کریں گے۔
اس معاہدے کے مطابق برطانیہ اپنی افواج کی افغانستان سے انخلاء کے بعد افغانستان کی مدد جاری رکھے گا۔
ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حامد کرزئی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون کو طالبان کے ساتھ شروع ہونے والے مذاکرت کے بارے میں آگاہ کریں گے۔
دوسری جانب فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی نے اعلان کیا ہے کہ فرانس رواں سال کے آخر تک افغانستان سے اپنی افواج کو نکال لے گا۔
فرانسیسی فوجیوں کا یہ انخلاء نیٹو کی مقررہ کردہ ڈیڈ لائن سے ایک سال قبل ہی مکمل ہو جائےگا۔
فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ پیرس میں ہونے والی اس بات چیت میں انہیں یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ فرانسیسی فوجیوں کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔
اس وقت افغانستان میں فرانس کے تین ہزار چھ سو فوجی تعینات ہیں۔ فرانس ان میں سے ایک ہزار فوجیوں کو رواں سال واپس لانا چاہتا ہے اور دو ہزار تیرہ کے بعد افغانستان میں فرانس کے چند سو فوجی ہی موجود رہیں گے۔
حامد کرزئی نے جمعہ کو پیرس میں ایک بیان میں کہا تھا کہ افغانستان فرانسیسی فوجیوں کے انخلاء کے بعد مزید ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے تیار ہے۔
افغانستان کے صدر کا کہنا تھا کہ فرانس اور دیگر اتحادی ممالک نے گزشتہ دس سال کے دوران افغانستان کی بہت مدد کی ہے۔
بی بی سی ورلڈ افیئر کے نامہ نگار ڈیوڈ لائین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں برطانوی افواج کی تعداد کسی بھی دوسرے یورپی ملک سے زیادہ ہے تاہم فرانسیسی فوجیوں کے افغانستان سے چلے جانے کے بعد یہ خلاء پورا کرنا مشکل ہے۔




















