
’برازیل سے سن دو ہزار گیارہ میں پانچ ارب ڈالر کی مالیت کا حلال چِکن دوسرے ممالک کو بھیجا گیا‘
محمود نے طالبان کو پیسےدینےسے انکار کے بعد ملنے والی موت کی دھمکیوں کےخوف سے پاک افغان سرحد پر واقعے اپنے شہر کو خیر آباد کہنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے انسانی سمگلروں کے ایک گروہ کو پانچ ہزار ڈالر دیے جس نے انہیں ایک ایسے ملک بھجوانے کا وعدہ کیا جس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے لیکن جس کے بارے میں انہیں بتایاگیا کہ وہاں وہ پر امن ماحول میں بغیر کسی خطرے کے نئی زندگی شروع کر سکیں گے۔ یہ ملک تھا برازیل۔
لیکن کچھ ہفتوں کے بعد انہوں نے اپنے آپ کو حلال خوراک تیار کرنے والی ایک فیکٹری میں انتہائی سخت کام کے شکنجے میں جکڑا ہوا پایا۔ اس شہر میں جب انہوں نے چار ماہ گزار لیے اور اس سے انہیں مانوسیت پیدا ہو گئی تو انہیں دوسری ریاست میں منتقل کر دیا گیا۔
ان چار ماہ کے دوران وہ غیر ملکیوں سے بھری بیرکوں میں رہائش پذیر تھے۔ وہاس دستیاب چند بستروں پر وہ سونے کی باریاں لیتے تھے۔
فیکٹری میں ان کا ایک ہی کام تھا۔تیز چھری سے فی منٹ وہ پچھتر مرغیاں اسلامی تقاضوں کے مطابق ذبح کرتے تھے۔ یہاں ذبح ہونے والی مرغیوں کا گوشت مختلف اسلامی ممالک کو بھیجا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کام کے دوران پسینہ صاف کرنے کا وقت بھی نہیں ملتا تھا۔
ایک روز محمود کے ایک ساتھی بیمار پڑ گئے اور انہیں مسلسل دو شفٹوں میں کام کرنے کا حکم دیا گیا۔ شکایت کرنے پر انہیں کام سے فارع کر دیا گیا اور ان کی جگہ ایک اور غیرملکی کو دے دیا گیا۔
محمود کو اب اپنی پناہ کی درخواست پر فیصلے کا انتظار ہے۔ وہ کھانا کھانے کے لیے مذہبی مراکز کا رخ کرتے ہیں اور ہر ملنے والے شخص سے مدد مانگتے ہیں۔
’انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ برازیل میں مجھے امن ملے گا، لیکن میں تو غلام بن کر رہ گیا ہوں اور ایک بھکاری کی زندگی گزار رہا ہوں‘۔
بی بی سی برازیل کی محمود کے علاوہ دو اور افراد سے بھی بات ہوئی جنہوں نے بتایا کہ انہیں بھی برازیل کے ذبیحہ خانوں میں ایسے ہی حالات کا سامنا تھا۔
یہ دونوں افراد ان چوبیس افراد میں شامل ہیں جو سمامبایا نامی شہر میں سعدیہ فیکٹری میں کام کرتے ہیں۔ سعدیہ بی آر فوڈز گروپ کا حصہ ہیں جو برازیل میں کھانے پینے کی اشیاء کی سب سے بڑی کمپنی ہے۔
برازیل میں غیر ملکی تجارت کے بیورو کے مطابق برازیل سے سنہ دو ہزار گیارہ میں پانچ ارب ڈالر کی مالیت کا حلال چِکن دوسرے ممالک کو بھیجا گیا۔
ان ذبیحہ خانوں میں کام کرنےوالے تقریباً تمام لوگ سی ڈی آئی اے ایل حلال نامی ایک کمپنی کی عمارتوں میں رہائش اختیار کرتے ہیں۔ سی ڈی آئی اے ایل حلال خوراک کے کاروبار میں سعدیہ سے وابستہ ہے۔
سی ڈی آئی اے ایل حلال دراصل شہر ساؤ برنارڈو دو کامپو میں واقع لاطینی امریکہ میں اسلام کی تبلیغ کے لیے بنائی گئی مذہبی تنظیم کا حصہ ہے۔
سی ڈی آئی اے ایل حلال برازیل سے حلال گوشت برآمد کرنے والی تمام کمپنیوں کو سہولیات فراہم کرتی ہے۔ اس کے تین سو پچاس ملازمین ہیں جو ذبیحہ خانے میں کام کرتے ہیں۔
لیبر کے پبلک پراسیکیوٹر ریکارڈو بلارینی نے کہا کہ جو حالات بتائے گئے ہیں وہ بالکل ایسے ہی جیسے غلامی ہو۔ انہوں نےکہا کہ کمپنیاں غیر ملکیوں کے حالات کا فائدہ اٹھاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کے بار بار تبادلوں کا مقصد یہ ہے کہ یہ لوگ کسی ایک شہر میں جڑیں نہ پکڑ سکیں، دوستیاں نہ بنا سکیں اور پولیس کو شکایت نہ کر سکیں۔
پراسیکیوٹر نے ان فیکٹریوں میں کام کے حالات کے بارے میں عدالت میں دو درخواستیں بھی دائر کی ہیں۔
ایک درخواست عدالت میں منظور بھی کر لی گئی اور سعدیہ اور سی ڈی آئی اےایل کو انتیس لاکھ ڈالر جرمانہ ادا کرنے کاحکم دیا ہے۔ کمپنیوں کی اپیل پر یہ رقم کم کر کے پانچ لاکھ ستر ہزار ڈالر کر دی لیکن فیصلہ برقرار رکھا۔



















