
شام کے صدر نے حکومت کے خلاف بغاوت کے لیے ’غیرملکی سازش‘ کو ذمہ دار ٹھرایا ہے۔
شام میں اپوزیشن لیڈر کا کہنا ہے کہ زبادانی شہر میں باغیوں کے خلاف کارروائی کرنے والے سرکاری فوجی دستوں نے قصبے میں جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔
اپوزیشن رہنما ردوان زیادی نے بی بی سی کو بتایا کہ فوجی دستے جمعہ سے بمباری کر رہے ہیں لیکن علاقے میں ’فری سیرین آرمی‘ کی زبردست حمایت کی وجہ سے اب فوج نے کارروائی بند کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔
منگل کی شام اپوزیشن رہنما نے اعلان کیا کہ فوج کے ساتھ دو روز کے مذاکرات کے بعد جنگ بندی پر معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت بدہ کی صبح سے فوج شہر خالی کرنا شروع کر دے گی۔
مسٹر زیادی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ شام میں خانہ جنگی کو روکنے کے لیے عرب لیگ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مداخلت کی درخواست کرے۔
انہوں نے بتایا کہ شام کی فوج کے متعدد ممبر باغیوں سے مل گئے ہیں۔ زبادانی جو لبنان کی سرحد سے زیادہ دور نہیں ہے حکومت مخالف مظاہروں کا اہم گڑھ ہے۔
منگل کوشام کی حکومت نے خلیجی ریاست قطر کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا کہ شام میں تشدد کے خاتمے کے لیے امریکی فوج بھیجی جائے۔
شام کے صدر بشارالاسد کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی طاقتیں شام کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ انہوں نے حکومت کے خلاف بغاوت کے لیے ’غیرملکی سازش‘ کو ذمہ دار ٹھرایا ہے۔
شام کے افسران کا کہنا ہے کہ مسلح گروہوں اور دہشت گردوں نے سکیورٹی فورسز کے کم از کم دو ہزار اہلکاروں کو ہلاک کیا ہے۔

















