امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے کہا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کے لیے راہ ہموار کر رہا لیکن ابھی تک اس نے یہ ہتھیار تیار کرنے شروع نہیں کیے ہیں۔
امریکی وزیر دفاع نے ایران کو جوہری ہتھیاروں سے دور رکھنے کے لیے سفارتی اور معاشی اقدامات جاری رکھنے کی حمایت کی ہے۔
وزیر دفاع نے ٹی وی چینل سی بی اسی کے پروگرام ’فیس دا نیشن‘ پروگرام میں اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے علاقے میں امریکی فوجوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا امریکہ اور اسرائیل دونوں کے مفاد میں ہے اور اس لیے دونوں ملکوں کو مل کر کوششیں کرنی چاہیں۔
لیون پنیٹا نے اوباما انتظامیہ کے موقف پر دہرایا کہ ایران ابھی ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں مصروف نہیں ہوا ہے اور وہ ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی صلاحیت پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایران کا موقف ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا ہے اور اس کا جوہری پروگرام توانائی اور طبعی ضروریات کے لیے ہے۔
ادھر ایران کے نمایاں اخبار گہیان نے خبر دی ہے کہ ایرانی سائنسدان ایک نئے مقام پر یورینیم کی افزودگی کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اخبار نے دعوی کیا ہے کہ اس نئے مقام میں کوئی فضائی حملہ گارکر ثابت نہیں ہو سکتا ہے کیونکہ یہ جگہ ایک ایسی سرنگ میں واقع ہے جسے پر کوئی بم بھی اثر نہیں کر سکتا۔.
ادھر امریکی افواج کے سربراہ جنرل مارٹن ڈیمپسی نے کہا کہ ایران کو یقین کر لینا چاہیے کہ اگر امریکہ نے اس کے جوہری پروگرام پر حملہ کیا تو ان کا جوہری پروگرام بلکل ختم ہو جایے گا۔

















