bbc.co.uk navigation

’پابندیوں نے اثر دکھانا شروع کر دیا‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 4 جنوری 2012 ,‭ 08:46 GMT 13:46 PST

آبنائے ہرمز خلیج فارس بحرین، کویت، قطر، سعودی عرب کو بحرِ ہند سے جوڑتی ہے

امریکہ نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے خلیج فارس میں بحری آمدو رفت کو روکنے کی دھمکیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس پر بین الاقوامی دباؤ نے اثرات دکھانے شروع کر دیے ہیں۔

امریکہ محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران پر اس کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اقتصادی پابندیوں کو مزید سخت کرنے کا اثر ظاہر ہونا شروع ہو گیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان وکٹوریا نیولینڈ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پابندیوں کی وجہ سے ایران کی عالمی تنہائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

’ ایرانی دھمکیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایران پر بین الاقوامی دباؤ کے اثرات شروع ہو گئے ہیں اور وہ تنہائی کا شکار ہوتا محسوس کر رہا ہے اور پابندیوں کے باعث پیدا ہونے والے معیشت سمیت ملکی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے یہ دھمکیاں دے رہا ہے۔‘

ایرانی کرنسی کی قدر اس وقت تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے تاہم ایران کا موقف ہے کہ پابندیوں کی وجہ سے کرنسی کی قدر میں کمی نہیں ہوئی ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل یورینیم کی افزودگی نہ روکنے پر ایران کے خلاف چار بار اقتصادی پابندیاں عائد کر چکی ہے۔

امریکی وزارت دفاع پینٹاگون کے ترجمان جارج لٹل کا کہنا ہے کہ خلیج فارس میں امریکی بحری بیٹرہ کی موجودگی بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ہے اور اس کا بحری بیڑے کو خلیج فارس سے ہٹانے کا کوئی ارارہ نہیں ہے۔

اس سے پہلے ایران نے دھمکی دی تھی کہ اگر مغربی ممالک نے اس کے جوہری پروگرام کی وجہ سے اس پر مزید پابندیاں لگائیں تو وہ آبنائے ہرمز کو بند کر دے گا۔

اس دھمکی پر امریکی بحریہ نے کہا تھا کہ وہ اس قسم کے کسی اقدام کو برداشت نہیں کرے گی۔

خیال رہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کی دھمکی اس کے تیل اور مالیاتی شعبوں کو نشانہ بناتے ہوئے مزید اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی مغربی ممالک کی کوشش کی کے بعد سامنے آئی تھی۔

آبنائے ہرمز خلیج فارس اور بحرین، کویت، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے تیل پیدا کرنے والے ممالک کو بحرِ ہند سے جوڑتی ہے۔

دنیا بھر میں تیل لے جانے والے ٹینکرز میں سے چالیس فیصد اس راستے کو استعمال کرتے ہیں۔

مغربی ممالک ایران پر جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی کوششوں کا الزام لگاتے آئے ہیں جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔