bbc.co.uk navigation

ایران امریکہ کشیدگی سے تیل مہنگا

آخری وقت اشاعت:  بدھ 4 جنوری 2012 ,‭ 18:36 GMT 23:36 PST
ایرانی میزائیل کا تجربہ

آبنائے ہرمز میں ایران نے میزائیل کے کئی تجربات کیے ہیں اور تیل کی برآمد پر پابندی کی صورت میں اس آبی گذرگاہ کو بند کردینے کی دھمکی بھی دی ہے

آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل روکنے کی ایرانی دھمکی اور خطے میں کشیدگی بڑھنے سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔

امریکہ نے ایران پر مالی پابندیاں مزید سخت کرنے کے لیے حال ہی میں نئی قانون سازی بھی ہے جبکہ فرانس ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندی عائد کرنے کی مہم میں پیش پیش ہے۔

تیل کی عالمی پیداوار میں ایران کا حصہ پانچ فیصدی ہے اور مزید سخت پابندیوں کے بعد تیل کی پیداوار کا یہ حصہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس میں دفترِ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے بھی اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ پوری دنیا میں اپنے ساتھیوں اور اتحادیوں کے ساتھ مشاورت کررہا ہے کہ امریکی قانون سازی کے کیا اثرات ہوں گے۔ ہماری کوشش ہے کہ دوسرے ملکوں کو بھی اس بات پر قائل کیا جائے کہ وہ ایرانی تیل پر اپنا انحصار کم کریں۔

ان کوششوں کے جواب میں ایران دھمکی دے چکا ہے کہ اگر اس کے تیل کی برآمد پر پابندی عائد کی گئی تو وہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل روک دے گا۔

خلیج فارس کے اس اہم بحری راستے سے دنیا بھر کی تیل کی ضروریات کا بیس فیصد حصہ گزرتا ہے اور حال ہی میں اپنی دھمکی کے بعد ایران نے اس علاقے میں درمیانے فاصلے تک مار کرنیوالے میزائیلوں کے کئی تجربات بھی کیے ہیں اور امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنا بحری بیڑا اس علاقے میں دوبارہ نہ بھیجے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔