
آبنائے ہرمز میں ایران نے میزائیل کے کئی تجربات کیے ہیں اور تیل کی برآمد پر پابندی کی صورت میں اس آبی گذرگاہ کو بند کردینے کی دھمکی بھی دی ہے
آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل روکنے کی ایرانی دھمکی اور خطے میں کشیدگی بڑھنے سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔
امریکہ نے ایران پر مالی پابندیاں مزید سخت کرنے کے لیے حال ہی میں نئی قانون سازی بھی ہے جبکہ فرانس ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندی عائد کرنے کی مہم میں پیش پیش ہے۔
تیل کی عالمی پیداوار میں ایران کا حصہ پانچ فیصدی ہے اور مزید سخت پابندیوں کے بعد تیل کی پیداوار کا یہ حصہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس میں دفترِ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے بھی اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ پوری دنیا میں اپنے ساتھیوں اور اتحادیوں کے ساتھ مشاورت کررہا ہے کہ امریکی قانون سازی کے کیا اثرات ہوں گے۔ ہماری کوشش ہے کہ دوسرے ملکوں کو بھی اس بات پر قائل کیا جائے کہ وہ ایرانی تیل پر اپنا انحصار کم کریں۔
ان کوششوں کے جواب میں ایران دھمکی دے چکا ہے کہ اگر اس کے تیل کی برآمد پر پابندی عائد کی گئی تو وہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل روک دے گا۔
خلیج فارس کے اس اہم بحری راستے سے دنیا بھر کی تیل کی ضروریات کا بیس فیصد حصہ گزرتا ہے اور حال ہی میں اپنی دھمکی کے بعد ایران نے اس علاقے میں درمیانے فاصلے تک مار کرنیوالے میزائیلوں کے کئی تجربات بھی کیے ہیں اور امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنا بحری بیڑا اس علاقے میں دوبارہ نہ بھیجے۔

















