
طالبان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے مغربی عزائم کے تحت طالبان کا ایک سیاسی دفتر ممکنہ طور پر قطر میں کھولنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔
تاہم یہ واضح نہیں کہ اس جنگ میں کامیابی کا دعویٰ کرنے والے شدت پسند کسی بامعنی مذاکرات میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں یا نہیں اور کیا ان حالات میں جب طالبان جنگجوؤں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں یہ مذاکرات کامیاب ہو بھی سکتے ہیں یا نہیں۔
جاری کردہ بیان میں طالبان کا کہنا ہے کہ افغانستان کا موجودہ مسئلہ دو ہزار ایک میں امریکی حملے کے بعد شروع ہوا اور اس میں دو فریق ملوث تھے اسلامی امارتِ افغانستان (طالبان) اور دوسری جانب امریکہ اور اس کے اتحادی۔
بیان میں کہا گیا کہ طالبان اپنے حریفوں سے بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے میں یقین رکھتے ہیں اور بیرونی قوتیں افغانوں سے طاقت کے زور پر اپنی بات کبھی نہیں منوا سکتے۔ بیان میں سیاسی دفتر کے قیام کا مقصد بین الاقوامی سطح پر طالبان کے مؤقف کی بہتر تفہیم قرار دیا گیا ہے۔
بیان میں گوانتاناموبے کی جیل میں زیرِ حراست قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ بیان میں مذاکرات کے حوالے سے مغربی میڈیا میں چھپنے والی خبروں کی بھی تردید کی گئی ہے۔
اس اقدام کی افغان صدر حامد کرزئی محتاط حمایت کرتے رہے ہیں۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ طالبان کے دفتر کا قیام اس دس سالہ جنگ کے خاتمے کے لیے اہم قدم ہے۔ لیکن ماضی میں طالبان کے ترجمانوں کی تصدیق کرنا ایک مسئلہ رہا ہے۔
امریکہ اور جرمنی بھی اس طرز کی طالبان نمائندگی کی کوشش کرتے رہے ہیں تاکہ مذاکرات شروع کیے جا سکیں۔

















