bbc.co.uk navigation

’مذاکراتی دفتر پر طالبان کا اتفاق‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 3 جنوری 2012 ,‭ 14:39 GMT 19:39 PST

طالبان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے مغربی عزائم کے تحت طالبان کا ایک سیاسی دفتر ممکنہ طور پر قطر میں کھولنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

تاہم یہ واضح نہیں کہ اس جنگ میں کامیابی کا دعویٰ کرنے والے شدت پسند کسی بامعنی مذاکرات میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں یا نہیں اور کیا ان حالات میں جب طالبان جنگجوؤں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں یہ مذاکرات کامیاب ہو بھی سکتے ہیں یا نہیں۔

جاری کردہ بیان میں طالبان کا کہنا ہے کہ افغانستان کا موجودہ مسئلہ دو ہزار ایک میں امریکی حملے کے بعد شروع ہوا اور اس میں دو فریق ملوث تھے اسلامی امارتِ افغانستان (طالبان) اور دوسری جانب امریکہ اور اس کے اتحادی۔

بیان میں کہا گیا کہ طالبان اپنے حریفوں سے بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے میں یقین رکھتے ہیں اور بیرونی قوتیں افغانوں سے طاقت کے زور پر اپنی بات کبھی نہیں منوا سکتے۔ بیان میں سیاسی دفتر کے قیام کا مقصد بین الاقوامی سطح پر طالبان کے مؤقف کی بہتر تفہیم قرار دیا گیا ہے۔

بیان میں گوانتاناموبے کی جیل میں زیرِ حراست قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ بیان میں مذاکرات کے حوالے سے مغربی میڈیا میں چھپنے والی خبروں کی بھی تردید کی گئی ہے۔

اس اقدام کی افغان صدر حامد کرزئی محتاط حمایت کرتے رہے ہیں۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ طالبان کے دفتر کا قیام اس دس سالہ جنگ کے خاتمے کے لیے اہم قدم ہے۔ لیکن ماضی میں طالبان کے ترجمانوں کی تصدیق کرنا ایک مسئلہ رہا ہے۔

امریکہ اور جرمنی بھی اس طرز کی طالبان نمائندگی کی کوشش کرتے رہے ہیں تاکہ مذاکرات شروع کیے جا سکیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔