bbc.co.uk navigation

فائرنگ فوری طور پر روکی جائے: عرب لیگ

آخری وقت اشاعت:  پير 2 جنوری 2012 ,‭ 17:42 GMT 22:42 PST

عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل نبیل العرابی نے شام میں فائرنگ روکنے کا مطالبہ کیا ہے اور حکومتی نشانہ بازوں کو شہریوں کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شامی حکومت کے سامنے یہ معاملہ اٹھایا جائے گا۔

قاہرہ میں لیگ کے مرکزی دفاتر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نبیل العرابی نے کہا کہ عرب لیگ کو اپنا کام مکمل کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔

اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق مارچ سے جاری حکومت مخالف احتجاج کو روکنے کی کوششوں میں پانچ ہزار شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

عرب لیگ کے تقریباً ساٹھ مبصرین پہلے ہی شام اور عرب لیگ کے بیچ امن معاہدے پر عمل درآمد کی تصدیق کے لیے شام میں موجود ہیں۔ دوسری جانب مظاہرین عرب لیگ کے مبصرین سے مایوس ہیں کیونکہ ان کے خیال میں مبصرین فسادات کو روک نہیں سکتے۔

فسادات میں کمی دیکھنے میں نہیں آئی اور امن کارکنوں کا کہنا ہے کہ مبصرین کی آمد کے بعد بھی ڈیڑھ سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

لوکل کوآرڈینیشن کمیٹی نامی تنظیم کا کہنا ہے کہ پیر کے روز دس لوگ مارے گئے جن میں چھ ہلاکتیں حمص کے شہر میں پیش آئیں۔

مبصرین کے سربراہ سوڈان کے جنرل مصطفیٰ الدابی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ کچھ لوگوں کے خیال میں وہ حکومت کے حق میں ہیں۔

اتوار کے روز عرب پارلیمنٹ نامی عرب لیگ کی مشاوراتی کمیٹی نے کہا کہ مبصرین کو جاری فسادات کے پیشِ نظر واپس بلایا جانا چاہیے۔

قاہرہ میں لیگ کے مرکزی دفاتر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نبیل العرابی نے کہا کہ عرب لیگ کو اپنا کام مکمل کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ لیگ مبصرین کی سرگرمیوں کے بارے میں ایک رپورٹ جاری کرے گی جس کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ مزید اقدامات کی ضرورت ہے یا نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ شامی فوج نے رہائشی علاقوں اور شہروں کے آس پاس کے علاقوں سے بھاری ہتھیار ہٹا لیے ہیں تاہم تشدد ابھی جاری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ شامی حکومت نے مبصرین کی آمد کے بعد پینتیس سو زیرِ حراست افراد کو رہا کر دیا ہے۔

انہوں نے عرب لیگ کی جانب سے حزبِ اختلاف کو دعوت دی کہ ان لوگوں کی فہرست دی جائیں جو اِن کے خیال میں ابھی بھی زیرِ حراست ہیں۔

صدر بشر الاشد کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ مسلح گروہوں کے خلاف لڑ رہے ہیں اور دو ہزار سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

شام میں ہلاکتوں کی تعداد اور دوسری خبروں کی تصدیق کرنا مشکل ہے کیونکہ شام کی حکومت نے بیرونی میڈیا کے شام میں داخل ہونے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔