bbc.co.uk navigation

طالبان سے مذاکرات، پیچیدہ اور دشوار

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 16 دسمبر 2011 ,‭ 02:11 GMT 07:11 PST

افغانستان میں طالبان کے ساتھ مذاکرات اگر خطرناک نہیں تو کٹھن ضرور ہیں لیکن ایک ایسا مربوط عمل شروع کرنا اور اسے آگے بڑھنا جس میں کابل سمیت تمام عناصر شامل ہوں بذات خود ایک انتہائی مشکل کام ثابت ہو رہا ہے۔

ایک ایسا عمل جو افغانستان کی نگرانی میں شروع ہو اور اسے افغان اپنا کہہ سکیں۔ افغان حکومت کی طرف سے قطر میں اپنے سفیر کو اچانک واپس بلانے کا اقدام بھی ایک ایسے عمل کو شروع کرنے میں حائل دشواریوں کی طرف واضح اشارہ تھا۔

افغان وزارتِ خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان میں کہا گیا کہ قطر میں افغان سفیر خالد احمد زکریا کو افغانستان اور خطے میں رونما ہونے والے واقعات اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی روشنی میں واپس بلایا جا رہا ہے۔

افغان حکومت کی طرف سے یہ قدم ایک ایسے وقت اٹھایا گیا ہے جب امریکہ، جرمنی اور اقوام متحدہ کو یہ امید ہو چلی تھی کہ اس سال کے آخر تک قطر میں طالبان کا دفتر قائم کرنے پر اتفاق ہو جائے گا۔

اس دفتر کے قیام کا مقصد طالبان کو ایک ڈاک کا پتہ مہیا کرنا تھا جہاں اُن سے رابطہ اور پرامن ماحول میں بات ہو سکے۔

"طالبان کے ساتھ عملی طور پر مذاکرات ایک پیچیدہ اور مشکل عمل ہے اور فریقین بات چیت شروع ہونے سے قبل ہی شکوک و شبہات اور غلط فہمیوں کا شکار ہیں۔"

ایک اعلیٰ افغان اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان کا دفتر قائم کرنے کے معاملے پر قطر کی حکومت امریکہ اور جرمنی سے کئی مہینوں سے بات چیت کر رہی تھی لیکن اس بارے میں افغان حکومت کو کچھ بھی نہیں بتایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ افغان حکومت بھی اس خیال کے حق میں ہے لیکن اس کو کسی طرح سے بھی طالبان کو کوئی رعایت دینے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

طالبان اور مسلحہ گروپوں کے ساتھ مذاکرات کے پیچیدہ اور متنازع عمل کو شروع کرنے کی کوششوں کو گزشتہ مہینوں میں کئی دھچکے لگنے کے بعد طالبان کے دفتر کے قیام کو ایک ایسا قدم تصور کیا جا رہا ہےتھا جس سے اس عمل کو آگے بڑھانے میں مدد ملنے کی توقع تھی۔

اس خفیہ اور حساس عمل میں شامل ملک کئی مہینوں سے اس امکان پر بات کر رہے تھے کہ طالبان کے دفتر کا قیام کا اعلان جرمنی کے شہر بون میں ہونے والی کانفرنس کے موقع پر ہو سکے۔

ایک سینئر مغربی سفارت کار نے اس پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بون کانفرنس کی یہ ایک بڑی خبر بن سکتی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان صدر حامد کرزئی اور ان کے کئی رفقاء کو دفتر کی جگہ اور مقاصد پر کئی تحفظات ہیں۔ ایک اعلیٰ افغان اہلکار نے کہا کہ افغانستان کے بارے میں عالمی کانفرنس کے موقع پر اس دفتر کے قیام کے اعلان کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔

امریکہ افغانستان سے اپنی فوجیں واپس نکال رہا ہے

دوہا شاید طالبان کا پتہ بن جائے لیکن اس بحث سے کئی اور اختلاف سامنے آئے ہیں۔ قطر کا کابل میں سفارت خانہ نہیں ہے۔ اس پر افغان وزارتِ خارجہ نے کئی مرتبہ اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ قطر کا کہنا ہے کہ کابل میں سفارت خانہ نہ کھولنے کی وجہ سفارت کاروں کی کمی ہے۔ قطر کا یہ جواب افغان حکومت کے لیے اطمینان بخش نہیں ہے۔

اس سال ستمبر میں برہان الدین ربانی کے قتل سے طالبان میں پائے جانے والے اختلافات اور طالبان کے مذاکرات سے سنجیدہ ہونے کے بارے میں کئی سوالات پیدا کر دیے تھے۔ طالبان نے برہان الدین ربانی کے قتل سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔

صدر کرزئی کے مشیر معصوم ستکانزئی کا جو اس حملے میں شدید زخمی ہو گئے تھے کہنا تھا کہ برہان الدین ربانی کے قتل کے بعد کابل اور اسلام آباد میں تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔

طالبان مذاکرات کرنے میں کس قدر سنجیدہ ہیں اس بارے میں ابہام پایا جاتا ہے لیکن کچھ سرکردہ طالبان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ دفتر کے قیام کے حق میں ہیں۔ اس میں طیب آغا بھی شامل ہیں جو اس بارے میں امریکی، جرمن اور قطر کے حکام سے بات چیت کرتے رہے ہیں۔

کئی سابق سینئرطالبان رہنما بھی اس حق میں ہیں۔ سنہ دو ہزار دس میں افغان امن جرگہ میں جب یہ تجویز پیش کی گئی تھی تو سابق طالبان سفیر عبدالسلام ضعیف نے اسے ایک اہم تجویز قرار دیا تھا۔ وہ اُن تین طالبان رہنماوں میں شامل تھے جن کے بارے میں خیال کیا جا رہا تھا کہ انھیں اس دفتر کا منتظم بنایا جائے گا۔

ضعیف نے اس تجویز کو آگے بڑھانے کی بہت کوشش کی کیوں خدشہ یہ تھا کہ پاکستان کی حکومت ان طالبان رہنماؤں تک رسائی میں روکاٹ بنے گی جو اس کی سرزمین پر قیام پذیر ہیں۔

افغان حکومت نے کئی مرتبہ پاکستان سے طالبان کمانڈر ملا عبد الغنی برادر تک رسائی دینے کی درخواست کی۔ ملا برادر ایک سال سے پاکستان کی تحویل میں ہیں۔

نیٹو کے پاکستان کی چیک پوسٹ پر حملے اور چوبیس پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پاکستان نے بون کانفرنس کا بائیکاٹ کیا جس سے تعلقات مزید دباؤ کا شکار ہوئے۔

پاکستان کا اصرار ہے کہ وہ افغانستان اور دیگر ممالک کے ساتھ ملکر امن کے قیام کے لیے کوشش کرنے کے لیے تیار ہے۔

.پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ اور کابل پاکستان کو اس سلسلے میں شریک کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

صدر کرزئی نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ ہی اصل میں بات کی جانی چاہیے۔

طالبان کے ساتھ عملی طور پر مذاکرات ایک پیچیدہ اور مشکل عمل ہے اور فریقین بات چیت شروع ہونے سے قبل ہی شکوک و شبہات اور غلط فہمیوں کا شکار ہیں۔

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔