bbc.co.uk navigation

’افغانستان نے قطر سے سفیر واپس بلا لیا‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 15 دسمبر 2011 ,‭ 23:27 GMT 04:27 PST

حامد کرزئی قیامِ امن کے لیے عسکریت پسندوں سے بات چیت کے حامی ہیں

افغانستان نے قطر میں طالبان کو دفتر کھولنے کی اجازت دیے جانے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد اپنے سفیر کو ’مشاورت‘ کے لیے واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔

افغان وزارتِ خارجہ کی جانب سے بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ افغانستان اور خطے کے موجود حالات بشمول افغانستان اور قطر کے تعلقات کو مدِنظر رکھتے ہوئے افغان حکومت نے خالد احمد زکریا کو دوہا سے مشاورت کے لیے بلانے کا فیصلہ کیا ہے‘۔

افغانستان کے سرکاری ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کا خیال ہے کہ اس(طالبان کے دفتر) معاملے میں قطر نے افغانستان سے مکمل طور پر مشاورت نہیں کی۔

کابل میں موجود بی بی سی کی لیز ڈوسے کا کہنا ہے کہ افغان طالبان سے بات چیت کے حوالے سے قطر میں ایک دفتر کے قیام کی باتیں کئی ماہ سے ہو رہی تھیں۔

ان کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ اسے طالبان سے بات چیت کے انتہائی مشکل اور خطرناک عمل میں تیزی لانے کے لیے قابلِ ذکر قدم قرار دیتے ہیں تو ذرائع کے مطابق افغان صدر حامد کرزئی اور ان کے ساتھیوں کو اس دفتر کے قیام پر تحفظات ہیں۔

ایک سینیئر افغان افسر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ قطر اس معاملے پر امریکہ اور جرمنی سے تو تفصیلی مشاورت کرتا رہا ہے لیکن وہ افغان حکومت کو اس میں مکمل طور پر شامل نہیں کر رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان بات چیت کو بڑھانے کے لیے دفتر کھولنے کا حامی ہے اگر اسے طالبان کو رعایت دیے جانے کے مترادف کے طور پر نہ دیکھا جائے۔

"قطر اس معاملے پر امریکہ اور جرمنی سے تو تفصیلی مشاورت کرتا رہا ہے لیکن وہ افغان حکومت کو اس میں مکمل طور پر شامل نہیں کر رہا۔ افغانستان بات چیت کو بڑھانے کے لیے دفتر کھولنے کا حامی ہے اگر اسے طالبان کو رعایت دیے جانے کے مترادف کے طور پر نہ دیکھا جائے۔"

اعلٰی افغان افسر

یہ واضح نہیں کہ قطر میں طالبان کا دفتر کھولنے کے معاملے کو مجموعی طور پر طالبان کی حمایت کس حد تک حاصل ہے اور یہ کہ اس دفتر کا انچارج کسے بنایا جائے گا۔

امریکہ چاہتا ہے کہ افغانستان کی ایک عشرہ طویل جنگ کا سیاسی حل نکل آئے اور افغان صدر حامد کرزئی بھی قیامِ امن کے لیے عسکریت پسندوں سے بات چیت کے حامی ہیں۔

تاہم ان کوششوں کو رواں برس ستمبر میں اس وقت شدید دھچکا پہنچا تھا جب طالبان کا نمائندہ بن کر آنے والے ایک حملہ آور نے خودکش حملے میں افغانستان کے مرکزی امن مذاکرات کار برہان الدین ربانی کو ہلاک کر دیا تھا۔

افغان صدر نے اس حملے کے بعد کہا تھا کہ پروفیسر ربانی پر حملہ کرنے والا پاکستانی شہر کوئٹہ سے آیا تھا۔ انہوں نے امن بات چیت کی فوری بحالی کے خیال کو رد کرتے ہوئے کہا تھا افغانستان پاکستان سے اسی وقت بات کرے گا جب وہ طالبان کے بارے میں معلومات دے گا۔

اس سے قبل افغان صدر یہ کہتے رہے تھے کہ طالبان سے بات چیت کے معاملے میں جس فریق سے بات ہو سکتی ہے وہ پاکستان ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔