BBC navigation

’منہ موڑنے سے فائدہ نہ ہوگا، پاکستان نظرثانی کرے‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 30 نومبر 2011 ,‭ 06:01 GMT 11:01 PST

امریکہ کی طرح پاکستان بھی مستحکم، محفوظ اور جمہوری افغانستان پر یقین رکھتا ہے: ہلری کلنٹن

امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے پاکستان کی جانب سے بون کانفرنس کے بائیکاٹ کے اعلان پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور پاکستان سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرے۔

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے بھی پاکستانی وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سے ٹیلیفون پر رابطہ کرکے بون کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے سرحدی علاقے میں سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کو امریکی وزیر خارجہ نے سانحہ قرار دیا اور وعدہ کیا کہ جتنی جلد ممکن ہوگا اس کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔ یہ بات انہوں نے جنوبی کوریا میں ایک عالمی امدادی کانفرنس میں شرکت کے دوران کہی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی وزیرخارجہ نے کہا ’مشترکہ مفادات پر تعاون سے منہ موڑنے سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ مجھے انتہائی افسوس ہے اور امید ہے کہ شاید کہیں کوئی ایسا راستہ ہو کہ مستحکم، محفوظ اور پُرامن افغانستان کے لیے کی جانے والی ان عالمی کوششوں میں ہمیں پاکستان کی شرکت سے فائدہ ہو سکے۔‘

پاکستان نے افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کی جانب سے اپنی سرحدی چوکیوں پر حملے کے بعد احتجاجاً جرمنی میں افغانستان کے مستقبل پر بات چیت کے لیے منعقد ہونے والے اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

جرمنی کے شہر بون میں پانچ دسمبر کو منعقد ہونے والی اس کانفرنس کے بائیکاٹ کا فیصلہ منگل کو لاہور میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی نے کی۔

اے ایف پی کے مطابق امریکی وزیر خارجہ نے کہا ’امریکہ کی طرح پاکستان بھی مستحکم، محفوظ اور جمہوری افغانستان پر یقین رکھتا ہے۔‘ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان، افغانستان پر ہونے والے مذاکرات میں شرکت کرنے کے لیے کوئی راستہ تلاش کرے گا۔

جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب مہمند ایجنسی کے علاقے سلالہ میں نیٹو افواج کی جانب سے سلالہ چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا تھا جس میں چوبیس پاکستانی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ پاکستان نے اس حملے کو اپنی خودمختاری اور سالمیت پر حملہ قرار دیا تھا۔

افغانستان کے صدر حامد کرزئی

افغان صدر حامد کرزئی نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور افغان عوام اور حکومت کی جانب سے مہمند ایجنسی میں نیٹو کے فضائی حملے میں پاکستان کے فوجی اہلکاروں کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے فوجی اہلکاروں کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا

افغان صدر نے پاکستان کی جانب سے بون کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا اور اس فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کی۔

پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق افغان صدر نے کہا کہ بون کانفرنس افغانستان میں امن و استحکام کے لیے منعقد کی جارہی ہے اور ایسے میں کانفرنس میں پاکستان کی عدم شرکت افغانستان میں پائیدار امن کی کوششوں کے لیے مددگار ثابت نہیں ہوگی۔

وزیر اعظم گیلانی نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن و استحکام کے لیے مکمل تعاون کررہا ہے لیکن ایک ایسا ملک کس طرح تعمیری کردار ادا کرسکتا ہے جس کی اپنی خود مختاری کی افغان سرزمین سے خلاف ورزی ہوئی ہو۔

وزیر اعظم نے افغان صدر کو یہ بھی باور کرایا کہ سرحد پار افغانستان سے پاکستانی سرزمین پر کئی بار حملے ہوچکے ہیں جن میں کئی پاکستانی سیکیورٹی اہلکار ہلاک بھی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور یہ افغانستان میں نیٹو اور ایساف کے مینڈیٹ سے بھی متصادم ہے۔

وزیر اعظم گیلانی نے یہ بھی کہا کہ اس قسم کے واقعات دہرائے جانے سے حکومت کے لیے سیاسی مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خودمختاری پر حملے اور فوجی جوانوں کی ہلاکت نے پاکستانی عوام میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔