bbc.co.uk navigation

بھوٹان کے بادشاہ کی شادی

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 13 اکتوبر 2011 ,‭ 14:08 GMT 19:08 PST
فائل فوٹو

شادی کے موقع پر بادشاہ جگمے نے بھوٹان کا روایتی تاج پہن رکھا تھا

بھوٹان کے بادشاہ جگمے وینگ چُک نے ایک ایسی خاتون سے شادی کی ہے جن کا تعلق کسی شاہی خاندان سے نہیں ہے۔

اکتیس سالہ بادشاہ نے بدھ مت کے رسم و رواج کے مطابق شادی کی اور تقریب میں اکیس سالہ طالب علم جیٹ سن پیما کو تاج پہنایا۔

جیٹ سن پیما ایک ایئرلائن پائلٹ کی بیٹی ہیں اور اطلاعات کے مطابق بادشاہ ان کو بچپن سے جانتے ہیں۔

بھوٹان کے بادشاہ جیسے ہی اپنی نشست پر واپس جا کر بیٹھے اور مس پیما نے نئی ملکہ کا تاج پہنا تو بدھ مت کے مذہبی راہبوں نے خوشی کا اظہار کیا۔

بادشاہ جگمے کی شادی کی تقریب کو سرکاری ٹی وی پر مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بج کر بیس منٹ پر براہِ راست نشر کیا گیا۔

بادشاہ کی شادی کے لیے بڑے پیمانے پر تیاریاں کی گئی تھیں۔ پوری سلطنت کو پوسٹروں اور خوبصورت بیجز سے سجایا گیا تھا۔

بادشاہ جگمے کی شادی کی تقریب کو سرکاری ٹی وی پر مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بج کر بیس منٹ پر براہِ راست نشر کیا گیا

شادی میں شریک افراد کے لیے وسیع پیمانے پر یاد گاری پلیٹیں بھی بنائی گئیں۔

شادی کی تقریبات بھوٹان کے بادشاہ جگمے وینگ چُک اور ان کے والد سابق بادشاہ جگمے سینگ چُک کے قلعے میں داخل ہونے کے بعد شروع ہوئیں۔

شادی کے موقع پر بادشاہ جگمے نے بھوٹان کا روایتی تاج پہن رکھا تھا جسے انہوں نے اپنی دلہن کو پیش کیا۔

مہمانوں کی جانب سے شاہی جوڑے کو بہت سے تحائف پیش کیے گئے۔

بھوٹان کے دستور کے مطابق شادی کی تقریب کے بعد گلو کاروں نے مذببی گانے پیش کیے۔

بھوٹان کے بادشاہ جگمے وینگ چُک نے بھارت اور برطانیہ میں تعلیم حاصل کی ہے۔ وہ سنہ دو ہزار چھ میں اپنے والد کی بادشاہت سے علیحدگی کے بعد ملک کے بادشاہ بنے

اس موقع پر ہاتھی کے چھوٹے بچوں کو روایتی رسیاں پہنا کر قلعے میں لایا گیا۔

بھوٹان کے سیکرٹری انفارمیشن کنلی ڈورجی نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ شادی کی تقریب کو شاہی خاندان تک محدود رکھا گیا۔

اطلاعات کے مطابق بھوٹان میں ایک سے زیادہ شادیاں کرنا جائز ہے تاہم بھوٹان کے لوگ بادشاہ جگمےسے اس بات کی امید نہیں رکھتے کہ وہ اپنے والد کی طرح ایک سے زیادہ شادیاں کریں۔

بھوٹان کے بادشاہ جگمے وینگ چُک نے بھارت اور برطانیہ میں تعلیم حاصل کی ہے۔ وہ سنہ دو ہزار چھ میں اپنے والد کی بادشاہت سے علیحدگی کے بعد ملک کے بادشاہ بنے۔

واضح رہے کہ مارچ سنہ دو ہزار آٹھ میں بھوٹان میں آئینی بادشاہت قائم ہونے کے بعد بادشاہ نے اپنی اختیارات چھوڑ دیے تھے۔

اسی بارے میں

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔