
افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل میک کرسٹل کو دو ہزار دس میں اوباما انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنانے پر برطرف کر دیا گیا تھا
امریکی فوج کے ریٹائرڈ جنرل سٹینلے میک کرسٹل کا کہنا ہے کہ افغانستان میں جنگی مہم کے دس سال بعد اب بھی امریکہ کو علم نہیں ہو سکا کہ اس لڑائی کو کس طرح کامیابی سے ختم کیا جائے۔
جنرل ریٹائرڈ سٹینلے میک کرسٹل کے مطابق افغانستان میں اپنے مقاصد کے حصول میں امریکہ اور نیٹو بمشکل آدھے راستے میں ہیں۔
دس سال قبل امریکہ نے افغانستان میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن دلان کو ڈھونڈ نکالنے اور طالبان کے خاتمے کے لیے مہم جوئی شروع کی تھی۔
کلِک افغانستان: پرتشدد واقعات میں چالیس فیصد اضافہ
سب سے مشکل کام ایک قانونی حکومت کا قیام ہےجس پر عام شہریوں کا یقین ہو اور وہ طالبان کے اثر و رسوخ کو کم کر سکے
سٹینلے میک کرسٹل
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ صرف گزشتہ پانچ سال میں اس لڑائی کے دوران دس ہزار افغان شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ پچیس سو کے قریب بین الاقوامی افواج کے اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے اکثریت امریکی فوجیوں کی ہے۔
امریکی تاریخ میں افغانستان میں امریکہ کی جنگ ویت نام سے بھی طویل ہو گئی ہے۔
افغانستان میں امریکی فوج کے سابق کمانڈر جنرل ریٹائرڈ سٹینلے میک کرسٹل نے کونسل برائے خارجہ تعلقات سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سب سے مشکل کام ایک قانونی حکومت کا قیام ہےجس پر عام شہریوں کا یقین ہو اور وہ طالبان کے اثر و رسوخ کو کم کر سکے۔
’ہم زیادہ نہیں جانتے تھے اور اب بھی ہم کچھ زیادہ نہیں جانتے ہیں، تاریخ اور صورتحال کے بارے میں میرے سمیت اکثریت کی رائے سطحی نوعیت کی تھی اور گزشتہ پچاس سال کی تاریخ کے بارے میں ہماری رائے خوفناک حد تک سادہ تھی۔‘

افغانستان میں رواں سال پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے
انھوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں کارروائی شروع کرنے کے انتخاب کے بارے میں ہو سکتا ہے کہ سمجھ آ جائے لیکن مسلم دنیا کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ عراق پرغیرقانونی طریقے سے حملہ کیا گیا، کچھ عسکری وسائل کا رخ عراق کی جانب موڑ دیا گیا جن کا زیادہ بہتر استعمال افغانستان میں کیا جا سکتا تھا۔‘
واضح رہے کہ گزشتہ سال جون میں امریکہ کے صدر براک اوباما نے افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل سٹینلے میک کرسٹل کو امریکی حکومت کے اعلی اہلکاروں اور افغانستان میں امریکی سفیر کو تنقید کا نشانہ بنانے کی پاداش میں ان کے عہدے سے برطرف کر دیا تھا۔
سابق امریکی کمانڈر کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امدادی گروپوں کا کہنا ہے کہ افغانستان کو اربوں ڈالر کی امداد دیے جانے کے باوجود بہتری کے آثار غیر واضح ہیں۔
کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار پال وڈ کا کہنا ہے کہ مغربی حکام اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ طالبان سے امن معاہدہ کیے بغیر افغانستان سے سال دو ہزار چودہ میں نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد ملک کے کچھ حصے تشدد کی لپیٹ میں رہیں گے اور بعض کا واقعی میں یہ خیال ہے کہ اس جنگ کو ختم کیا جا سکتا ہے۔
غیر سرکاری امدادی تنظیموں کے مطابق افغانستان میں گزشتہ ایک عشرے کے دروان ستاؤن ارب ڈالر امداد خرچ کی جا چکی ہے اور اس سے کچھ فائدہ حاصل کیا جا سکا ہے لیکن امداد خرچ کرنے سے یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ کئی افغان شہریوں کی زندگیوں میں حقیقی طور پر تبدیلی آئی ہے۔
مثال کے طور پر افغان وزارت صحت کے مطابق سال دو ہزار ایک میں محض نو فیصد افغان شہریوں کو طبی سہولیات حاصل تھیں جو اب اسی فیصد کے قریب شہریوں کو حاصل ہیں۔ لیکن بلکل نئے تعمیر شدہ بہت سارے طبی مراکز بند ہو چکے ہیں یا ان میں دستیاب سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے رواں ہفتے کے شروع میں ملک میں انسانی حقوق کے نئے قوانین پر ہونے والی پیش رفت، تعلیم اور صحت کی سہولیات کی دستیابی اور خواتین سے امتیازی سلوک میں کمی کو خوش آمدید کہا تھا لیکن تشویش ظاہر کی تھی کہ انصاف، پولیس کے نظام، سکیورٹی اور نقل مکانی ایسے شعبے ہیں جہاں صورتحال بہتر نہیں یا مزید ابتر ہو سکتی ہے۔
تنظیم کے ایشیا پیسفک کے ڈائریکٹر سیم ظریفی کا کا کہنا ہے کہ’افغان حکومت اور اس کے اتحادی اپنی خراب کارکردگی کا مسلسل یہ جواز پیش نہیں کر سکتے ہیں کہ نوے کی دہائی کے مقابلے میں آج حالات بہتر ہیں۔‘
BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔