چین نے الزام لگایا ہے کہ اس کے مغربی خطے سنکیانگ کے شہر کاشغر میں شہریوں پر حالیہ حملے میں ملوث افراد نے پاکستان میں تربیت حاصل کی تھی۔ دوسری جانب پاکستان کے دفترِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دہشت گردی کے تمام واقعات قابلِ مذمت ہیں اور چین کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ چین کا کہنا ہے کہ سنکیانگ حملے میں ملوث دو مشتبہ افراد کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔
مشتبہ حملہ آور ہلاک

چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق پولیس نے مغربی خطے سینکیانگ میں سنیچر کو ہونے والے حملے میں ملوث دو مشتبہ افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔
چین کے سرکاری خبر رساں ادارے زنہوا کے مطابق حملے میں ملوث دو مشتبہ افراد ممتیلی تلوالدی اور تورسن حسن کاشغر شہر کے مضافات میں واقع مکئی کے ایک کھیت میں چھپے ہوئے تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ سنیچر کو ایک ریستوران پر حملے میں چھ افراد ہلاک ہو گئے تھے جب کہ پولیس نے پانچ مشتبہ افراد کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا تھا۔
سینکیانگ کے گورنر نور بکری نے کہا ہے کہ’ہر اس ظالمانہ فعل سے سخت سے نمٹا جائے گا جس سے لوگوں کو زندگیوں کو خطرہ ہو، قانون کے وقار کو پامال کیا جائے اور اعلیٰ قومی مفادات کو خطرہ لاحق ہو۔‘
سنیکیانگ میں سنیچر کو اختتام ہفتہ پر شروع ہونے والے پرتشدد واقعات میں اٹھارہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
چین نے الزام لگایا ہے کہ کاشغر میں حالیہ حملے میں ملوث افراد نے پاکستان میں تربیت حاصل کی تھی۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے تمام واقعات قابلِ مذمت ہیں اور چین کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔
سنیچر اور اتوار کے واقعات سے پہلے اٹھارہ جولائی کو سینکیانگ کے علاقے ہوٹن میں ایک پولیس سٹیشن پر حملے میں متعدد پولیس اہلکاروں سمیت بڑی تعداد میں عام شہری ہلاک ہو گئے تھے۔
چینی حکام نے اس حملے کا ذمہ دار اقلیتی اوغر برادری کے ’دہشت گردوں‘ کو ٹھہرایا تھا۔
اوغر کارکنوں نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس نے پرامن احتجاج پر فائرنگ کر کے پرتشدد واقعات پر اکسایا ہے۔
یاد رہے کہ سینکیانگ میں پچھلے سال مسلمان اوغر آبادی اور چینی ہان آبادی میں نسلی فسادات پھوٹ پڑے تھے جن میں دو سو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
’ پاکستان میں تربیت حاصل کی‘

چین نے الزام لگایا ہے کہ اس کے مغربی خطے سنکیانگ کے شہر کاشغر میں شہریوں پر حالیہ حملے میں ملوث افراد نے پاکستان میں تربیت حاصل کی تھی۔
چین کے سرکاری خبر رساں ادارے زنہوا کے مطابق اتوار کو شدت پسندوں کی جانب سے ایک ریستوران کو آگ لگانے اور بعد میں شہریوں کو قتل کرنے کے واقعے میں چھ افراد ہلاک اور تین پولیس اہلکاروں سمیت پندرہ افراد زخمی ہو گئے تھے۔
زنہوا کے مطابق پولیس نے پانچ مشتبہ افراد کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ہے۔
تاہم ابھی تک پاکستان کی جانب سے چین کے الزام پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے اور نہ ہی ان اطلاعات کی تصدیق ہو سکی ہے کہ آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا چین کے دورے پر ہیں۔
اتوار کو چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی زنہوا نے کاشغر کی شہری حکومت سے منسوب ایک بیان میں کہا ہے کہ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ گروپ کے رہنماؤں نے دہشت گرد تنظیم’ ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ ‘ یا ای ایم ٹی آئی ایم کے پاکستان میں قائم کیمپوں میں دھماکہ خیز مود اور آتشی اسلحہ کی تیاری کی تربیت حاصل کی، اور اس کے بعد خطے سینکیانگ میں دہشت گرد کارروائیاں منظم کرنے کے لیے داخل ہوئے۔‘
پیر کو حکومت نے جائے وقوعہ سے بھاگنے والے دو مشتبہ افراد کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے ہیں۔ پولیس نے ان افراد کی شناخت انتیس سالہ ممتیالی تلوالدی اور چونتیس سالہ تورسن حسن کے نام سے کی ہے۔
پولیس نے ان افراد کی گرفتاری کے حوالے سے کوئی خبر دینے پر پندرہ ہزار تین سو چوراسی ڈالرز انعام کا اعلان بھی کیا ہے۔
زنہوا کے مطابق سینکیانگ اکیڈیمی آف سوشل سائنسز میں واقع وسطی ایشیا کے سینٹر میں محقق پئن زیپنگ نے مشرقی ترکستان کی علیحدگی پسند فورسز میں ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کو’ سب سے زیادہ تشدد پسند اور خطرناک قرار دیا ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ یہ تنظیم پاک افغان سرحدی علاقے میں کہیں قائم ہے۔
پاکستان کو مکمل اعتماد ہے کہ سنکیانگ خطے خاص طور پر کاشغر کے محبِ وطن شہری شدت پسندوں، دہشت گردوں اور علیحدگی پسندوں کو ختم کرنے میں کامیاب ہوں گے۔
پاکستان دفترِ خارجہ
پئن زیپنگ اور دیگر ماہرین کے خیال میں یہ تنظیم عام طور پر اپنے کارکنوں کو سینکیانگ روانہ کرنے سے پہلے خودکش بم حملوں، کار بم دھماکوں کی تربیت فراہم کرتی ہے تاہم ان دنوں علاقے میں انٹرنیٹ کے ذریعے بم بنانے کی ترکیبیں پھیلاتی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سینکیانگ حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا ہے جبکہ چینی کام کے مطابق اس گروپ کے القاعدہ سے تعلقات ہیں۔
یاد رہے کہ سینکیانگ میں پچھلے سال مسلمان اوغر آبادی اور چینی ہان آبادی میں نسلی فسادات پھوٹ پڑے تھے جن میں دو سو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
’چین کے ساتھ تعاون کریں گے‘

پاکستان نے چین میں ہونے والے حالیہ شدت پسندی کے واقعات پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے تمام واقعات قابلِ مذمت ہیں۔
پاکستان کی وزارت خارجہ کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت پر دیا گیا ہے جب چین نے الزام لگایا ہے کہ پاکستان سے متعصل صوبہ سنکیانگ کے شہر کاشغر میں شہریوں پر حالیہ حملوں میں مبینہ طور پر ملوث افراد نے پاکستان میں قائم تربیت گاہوں سے تربیت حاصل کی تھی۔
ان حملوں میں چھ افراد ہلاک جبکہ پندرہ زخمی ہوگیے تھے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے ’پاکستان کو مکمل اعتماد ہے کہ سنکیانگ خطے کے، خاص طور پر کاشغر کے محبِ وطن شہری اور چین کی حکومت، شدت پسندوں، دہشت گردوں اور علیحدگی پسندوں کے مذموم مقاصد کو ناکام بنانے میں کامیاب ہو گی۔‘
‘یہ علحیدگی پسند، شدت پسند اور دہشت گرد ظاغوتی قوت تشکیل دیتے ہیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان سنکینانگ میں سرگرم ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کے خلاف چین کی حکومت کے ساتھ بھر پور تعاون کرے گا۔
اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار ذوالفقار علی نے بتایا کہ وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے چالیس منٹ بعد پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر اور پولینڈ کے وزیر خارجہ ردو سلاو سکروسکی نےاسلام آباد میں ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کیا۔
اس کانفرنس کے دوران جب پاکستان کی وزیر خارجہ سے کاشغر میں ہونے والے حملوں کے بارے میں چین کی حکومت کے الزامات پر رد عمل جاننا چاہا تو ان کا جواب وزارت خارجہ کے بیان کے بالکل برعکس تھا۔
حنا ربانی کھر نے صحافی سے مخاطب ہوکر کہا ’جن اطلاعات کا آپ ذکر کررہے ہیں ہمارے پاس ایسی کوئی اطلاعات نہیں ہیں۔ ہمارے پاس کچھ نہیں ہے جو سرکاری طور پر ہم سے کہاگیا ہو۔‘
پاکستان کی وزیر خارجہ کے اس بیان سے وزارت خارجہ کے اندر رابطے کے فقدان کی نشاندہی ہوتی ہے۔
حملوں کی تصاویر
سنکیناگ کے بارے میں کچھ حقائق

چین نے پیر کے روز کہا ہے کہ ملک کے مغربی خطے سنکیانگ میں ہونے والے حملے میں اسلامی شدت پسندوں ملوث ہیں۔
سنکیانگ کے بارے میں کچھ حقائق مندر جہ ذیل ہیں۔
- سنکیانگ علاقے کے حساب سے چین کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور اس کی آبادی دو کروڑ کے لگ بھگ ہے۔
- یہاں اسّی لاکھ اوغر آبادی ہے جو لسانی اور ثقافتی اعتبار سے خود کو وسط ایشیائی ریاستوں کے زیادہ قریب سمجھتی ہے۔
- سنکیانگ کے شمال میں زیادہ تر کاروباری افراد رہتے ہیں جبکہ جنوب میں اوغر اکثریت ہے۔
- حکومت نے گزشتہ جون میں اقتصادی ترقی کو تیز کرنے کے لیے کاشغر میں اقتصادی مرکز بنانے کا منصوبہ بنایا تھا۔
- علاقے کے تعلیمی اداروں میں اوغر زبان کو کافی حد تک خارج کر دیا گیا ہے۔
- تبت کے ساتھ ساتھ سنکیانگ کا علاقہ سیاسی طور پر حساس ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ ان دونوں علاقوں میں خوشحالی ہے اور اقتصادی ترقی ہو رہی ہے۔
- سنکیانگ کو دفاعی لحاظ سے ایک نہایت ہی اہم مقام حاصل ہے۔
- بیسویں صدی کے اوائل میں کچھ عرصے کے لیے اوغر آبادی نے اپنی آزادی کا اعلان کر دیا تھا لیکن انیس سو انچاس میں یہ علاقہ باقاعدہ طور پر چین کے مکمل کنٹرول میں لایا گیا۔
- سرکاری سطح پر چین سنکیانگ کو جنوبی علاقے تبت کی طرز پر ایک خود مختار علاقہ بتاتا ہے۔
- اٹھارہ جولائی کو سینکیانگ کے علاقے ہوٹن میں ایک پولیس سٹیشن پر حملے میں متعدد پولیس اہلکاروں سمیت بڑی تعداد میں عام شہری ہلاک ہو گئے تھے۔
- امریکہ پر ستمبر دو ہزار ایک میں ہونے والے حملوں کے بعد چین مسلسل اوغر علیحدگی پسندوں پر القاعدہ کے ساتھ روابط کا الزام لگاتا رہا ہے۔ چین کے مطابق اوغر علیحدگی پسند افغانستان میں موجود مسلمان جنگجؤں سے نظریاتی اور مسلح ٹریننگ بھی حاصل کرتے رہے ہیں۔ لیکن ان الزامات کی حمایت میں چین نے کبھی کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
طویل اختلافات کی تاریخ

چین کے سنکیانگ کے علاقے میں بھڑکنے والے فسادات کے پیچھے چین اور اس علاقے کی اوغر آبادی کے مابین اختلافات کی ایک لمبی تاریخ ہے۔ بی بی سی کے اس سوالنامے میںسنکیانگ میں بسنے والے اوغر مسلمانوں کے بارے میں چند بنیادی حقائق پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
سوال: اوغر کون لوگ ہیں؟
جواب: اوغر مسلمان ہیں۔ گو ان کی زبان ترکی سے مماثلت رکھتی ہے لیکن لسانی اور ثقافتی اعتبار سے وہ خود کو وسط ایشیائی ریاستوں کے زیادہ قریب سمجھتے ہیں۔
صدیوں سے سنکیانگ کی معیشت کا دارومدار زراعت اور تجارت پر ہے، جس کا اظہار سلک روٹ پر واقع کاشغر جیسے مصروف شہروں سے ہوتا ہے۔
بیسویں صدی کے اوائل میں کچھ عرصے کے لیے اوغر آبادی نے اپنی آزادی کا اعلان کر دیا تھا لیکن انیس سو انچاس میں یہ علاقہ باقاعدہ طور پر کومیونسٹ چین کے مکمل کنٹرول لایا گیا۔
سرکاری سطح پر چین سنکیانگ کو جنوبی علاقے تبت کی طرز پر ایک خود مختار علاقہ بتاتا ہے۔
سوال: چین کو اوغر لوگوں سے کیسی تشویش ہے؟
جواب: چینی حکومت کا کہنا ہے اوغر عسکریت پسند ایک عرصے سے آزادی حاصل کرنے کے لیے ایک پرتشدد تحریک چلا رہے ہیں۔ اس تحریک میں اوغر بمباری کے علاوہ سبوتاژ اور امن و عامہ کی صورتحال خراب کرنے جیسے حربے استعمال کرتے ہیں۔
امریکہ پر ستمبر دو ہزار ایک میں ہونے والے حملوں کے بعد چین مسلسل اوغر علیحدگی پسندوں پر القاعدہ کے ساتھ روابط کا الزام لگاتا رہا ہے۔ چین کے مطابق اوغر علیحدگی پسند افغانستان میں موجود مسلمان جنگجؤں سے نظریاتی اور مسلح ٹریننگ بھی حاصل کرتے رہے ہیں۔ لیکن ان الزامات کی حمایت میں چین نے کبھی کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
نومبر دو ہزار ایک میں افغانستان پر امریکی حملے کے دوران وہاں سے بیس اوغر پکڑے گئے تھے۔ گو ان پر ابھی تک باقاعدہ فرد جرم عائد نہیں کی گئی لیکن وہ پچھلے چھ سال سے گوانتانامو بےمیں قید ہیں۔ دو ہزار چھ میں ان میں سے پانچ اوغر البانیہ نے قبول کر لیے، چار کو اس سال جون میں برموڈا میں آباد کر دیا گیا جبکہ باقی عنقریب بحرالکاہل کے جزیرے پالو بھیج دیے جائیں گے۔
سوال: اوغر کو چین سے کیا شکایات ہیں؟
جواب: سیاسی کارکنوں کا کہنا ہے کہ چین نے وقت کے ساتھ اوغر قوم کی مذہبی، تجارتی اور ثقافتی آزادی سلب کر لی ہے۔ چین نے کئی دفعہ اوغر آبادی پر کریک ڈاؤن کیا ہے جس کی تازہ مثال بیجنگ اولمپکس کے وقت دیکھنے میں آئی۔
پچھلی چند دہائیوں میں کئی اوغر رہنماؤں کو جیل بھیجا گیا جبکہ کئی دہشتگردی کے الزام سے بچنے کے لیے جلاوطنی پر مجبور ہو گئے۔ چند سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ چین جان بوجھ کر اوغر سے درپیش خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے تاکہ وہ علاقے میں اپنا جبر قائم رکھ سکے۔
چین پر یہ بھی الزام ہے کہ اس نے اس علاقے میں بڑے پیمانے پر ہن چینیوں کی نقل مکانی کو شہ دی تاکہ اوغر آبادی کو اقلیت میں بدل دیا جائے۔ اس وقت ہن چینیسنکیانگ کی کل آبادی کا چالیس فیصد ہیں۔
سوال: سنکیانگ میں اس وقت کیا حالات ہیں۔
جواب: پچھلی چند دہائیوں میں سنکیانگ میں کئی بڑے ترقیاتی منصوبے تشکیل پائے ہیں جس سے علاقے میں خوشحالی آئی ہے۔ لیکن اس علاقے سے آزاد اطلاعات شاذ و نادر ہی ملتی ہیں کیونکہ وہاں جانے والے مقامی اور غیر ملکی صحافیوں پر چینی حکومت گہری نظر رکھتی ہے۔
چین نے سنکیانگ میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کی تشہیر پر کافی محنت کی ہے اور اوغر بھی کھل کر چینی حکام پر تنقید نہیں کرتے۔
لیکن چینی مفادات پر گاہے بگاہے ہونے والے حملوں سے لگتا ہے کہ اوغر علیحدگی پسند اس علاقے کی ایک شہ زور طاقت ہیں۔
چین نے سنکیانگ کے درالخلافہ ارمچی میں ہونے والے حالیہ فسادات کا ذمہ دار چین سے باہر بسنے والے اوغر علیحدگی پسندوں کو ٹھہرایا ہے۔ اوغر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ چین نے ایک پر امن احتجاجی جلسے پر بلا جواز فائرنگ کی جس سے کم از کم ایک سو چالیس افراد ہلاک ہو گئے۔
ان رہنماؤں نے جنوبی چین کی ایک فیکٹری میں اوغر اور ہن میں ہونے والی جھڑپوں میں دو اوغر افراد کی ہلاکت کی انکوائری کا بھی مطالبہ کیا ہے۔







