آخری وقت اشاعت:  منگل 26 جولائ 2011 ,‭ 07:36 GMT 12:36 PST

مالٹا: طلاق کے حق کا قانون منظور

ملک کے کیتھولِک چرچ کے ہمراہ وزیرِاعظم، خود بھی طلاق کے خلاف مہم چلا رہے تھے لیکن انہیں ناکامی ہوئی تھی

مالٹا کی پارلیمان نے طلاق کے حق کو قانونی قرار دینے کے تاریخی قانون کو اکثریت رائے سے منظور کر لیا ہے۔

اگر صدر اس قانون پر دستخط کر دیتے ہیں تو یہ قانون رواں سال اکتوبر سے نافذ ہو جائے گا۔

اس سے پہلے مالٹا میں لوگوں کو طلاق دینے کے لیے ملک سے باہر جانا پڑا تھا۔

کیتھولِک عیسائیوں کے مذہبی مرکز ویٹی کن کے علاوہ، فلپائن اور مالٹا، دنیا کے دو ملک ہی ہیں جہاں شادی شدہ جوڑوں کو طلاق کی اجازت نہیں ہے۔

مالٹا میں پارلیمان کے باؤن اراکین نے اس قانون کے حق میں جب کے گیارہ نے مخالفت میں ووٹ ڈالے، اس کے علاوہ پانچ اراکین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا اور ایک رکن غیر حاضر تھے۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق پارلیمان میں طلاق کے قانون کی اکثریت سے منظوری ایک غیر معمولی فتح ہے کیونکہ اس سے پہلے پارلیمان میں اہم قانون محض ایک ووٹ سے ہی منظور ہوئے ہیں۔

حکمران جماعت نیشنلسٹ پارٹی کے انیس اراکین نے جماعت کے موقف کے برعکس اس قانون کے حق میں ووٹ دیا۔

حکمران جماعت نیشنلسٹ پارٹی کے انیس اراکین نے جماعت کے موقف کے برعکس اس قانون کے حق میں ووٹ دیا۔

مئی میں طلاق کے حق میں کرائے جانے والی رائے شماری میں بہّتر فیصد لوگوں نے اس کی حمایت میں ووٹ ڈالے تھے۔

ملک کے کیتھولِک چرچ کے ہمراہ وزیرِاعظم، خود بھی طلاق کے خلاف مہم چلا رہے تھے لیکن انہیں ناکامی ہوئی تھی۔

وزیراعظم ڈاکٹر گوزنی کے مطابق ملک میں طلاق کا قانونی حق دینے سے خاندانی نظام پر اثر پڑ سکتا ہے۔

پیر سے پہلے مالٹا یورپی یونین کا واحد ملک تھا جہاں طلاق کے حوالے سے قانون موجود نہیں تھا۔

یہاں شادی شدہ جوڑوں صرف عدالتوں کے ذریعے قانونی طریقے سے طلاق کے لیے رجوع کر سکتے تھے یا چرچ سے رجوع کرنا پڑتا تھا اور اس پیچیدہ طریقۂ کار میں نو سال تک کا عرصہ لگ جاتا تھا۔

اس سے قبل دو ہزار چار میں لاطینی امریکہ کے ملک چلی کو عوامی دباؤ کی وجہ سے طلاق کے حق کو قانونی کرنا پڑا تھا۔

bbc.co.uk navigation

BBC © 2013 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔