اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے
امریکی حکام نے توقع ظاہر کی ہے کہ صدر براک اوباما افغانستان سے اس سال کے آخر تک دس ہزار امریکی فوجیوں کی واپسی کا اعلان کریں گے۔
صدر اوباما فوجیوں کی واپسی کے فیصلے کا اعلان بدھ کو ایک تقریر میں کرنے والے ہیں۔
حکام کے مطابق امریکی صدر آئندہ ماہ تک پانچ ہزار فوجیوں کے انخلاء کا اعلان کرنے والے ہیں جبکہ پانچ ہزار فوجیوں کو رواں سال کے اواخر تک واپس بلا لیا جائے گا۔
افغانستان میں تقریباً ایک لاکھ امریکی فوج تعینات ہے اور براک اوباما کہہ چکے ہیں کہ اس کا انخلاء جولائی سے شروع ہو جائے گا۔
افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد، ان پر اٹھنے والے اخراجات اور آپریشن میں امریکیوں کی ہلاکتوں پر امریکی کانگریس اور ذرائع ابلاغ میں تنقید ہوتی رہی ہے۔

افغانستان سے امریکہ کی قریباً ایک لاکھ فوج کا انخلاءجولائی سے شروع ہورہا ہے
امریکی فوج کے انخلاء کے بارے میں براک اوباما کی جانب سے غور کیے جانے کی خبر ایسے وقت آئی ہے جب ایک روز پہلے ہی امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ، افغانستان میں موجود طالبان کے ارکان سے بات چیت کر رہا ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ امریکہ نے اِن رابطوں کا اعتراف کیا ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ امریکی فوجی رہنماء افغانستان سے سست روی سے فوجی انخلاء کے حامی ہیں جبکہ دیگر مشیر آنے والے مہینوں میں فوج کی تعداد میں نمایاں انخلاء کے حق میں ہیں۔
اس ماہ کے اوائل میں رابرٹ گیٹس نے نیٹو کے ہیڈ کوارٹر میں کہا تھا کہ افغانستان میں اہم پیش رفت ہورہی ہے۔ لیکن انہوں نے خبردار کیا تھا ’اگر اختیارات کی منتقلی افغان سکیورٹی فورسز کو منظم اور مربوط انداز میں نہیں ہوتی تو جو پیشرفت کی گئی ہے اسے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں‘۔
امریکہ میں بھی نمایاں انخلاء کرنے کے لیے سیاسی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ براک اوباما کو ستائیس سینیٹرز کے ایک گروپ نے خط میں حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی کے لیے کہا ہے۔

میں نے اپنے ساتھی وزراء کو یقین دلایا ہے کہ ہماری جانب سے جلد بازی نہیں ہوگی: رابرٹ گیٹس
دوسری جانب نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں یہ خیال عام ہے کہ طالبان کو شکست دینے کے لیے امریکی فوج کی ضرورت ہے۔
افغانستان میں جنگ کو دسواں سال ہے اور نامہ نگاروں کے مطابق جنگ کے دوران شہریوں کی ہلاکت سب سے زیادہ ہوئی ہیں۔ شہریوں کی ہلاکت کے لیے شدت پسندوں کو الزام دیا جاتا ہے تاہم بین الاقوامی افواج کی جانب سے شہریوں کی ہلاکت کے واقعے پر پورے ملک میں غصے کی لہر دوڑ جاتی ہے۔
افغانستان سے امریکہ کی تقریباً ایک لاکھ فوج کا انخلاء اگلے ماہ یعنی جولائی سے شروع ہورہا ہے۔ سنہ دو ہزار چودہ تک مکمل انخلاء سے پہلے تمام سکیورٹی اختیارات افغان سکیورٹی فورسز کو مرحلہ وار سونپ دیے جائیں گے۔
BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔