
براک اوباما اپنے حکم کے دفاع میں ٹھوس دلائل بھی دے سکتے ہیں
امریکی فوج کے خصوصی دستے نے اسامہ بن لادن کو گرفتار کرنے کی بجائے انہیں سر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا اور یوں امریکہ کو ’سب سے زیادہ مطلوب‘ شخص کو کسی مقدمے کا سامنا کرنا نہیں پڑا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اسے زندہ گرفتار کیا جانا چاہیے تھا۔
اب قانون دان ہمیشہ یہ سوال اٹھاتے رہیں گے کہ اسامہ کی زندہ گرفتاری اس ’بدلے‘ سے بہتر آپشن تھی جیسا کہ ونسٹن چرچل نے کہا تھا کہ قانون جنگ سے بہتر ہے لیکن اس کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔
لیکن یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر بن لادن کو گرفتار کر لیا جاتا تو انہیں مقدمہ چلائے جانے تک ایسی کونسی جگہ رکھا جاتا جو محفوظ ہوتی۔
اگر صدام حسین کے مقدمے کو ذہن میں رکھا جائے تو اسامہ کے خلاف مقدمے کا صحیح مقام نیویارک شہر ہوتا لیکن سکیورٹی وجوہات کی بنا پر شاید ایسا ممکن نہ ہوتا۔ اس کی مثال نائن الیون حملوں کے منصوبہ ساز خالد شیخ محمد کے خلاف مقدمے کا مین ہٹن کی بجائے گوانتانامو میں فوجی عدالت کے سامنے چلایا جانا ہے۔
ایک سوال یہ ہے کہ کیا اسامہ بن لادن پر مقدمہ چلنا ان کے مداحوں میں اضافے کی وجہ بنتا؟
اگرچہ ایسے ٹربیونلز کافی عرصے سے کسی جنگ یا لڑائی کے حوالے سے مقدمات کی سماعت کرتے رہے ہیں لیکن ان کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔
اور جو یہ کہتے ہیں کہ ان ٹربیونلز میں سماعت سے مقدمات کا فیصلہ جلد ہو جاتا ہے انہیں یہ بات جان لینی چاہیے کہ گوانتانامو کمیشنز کو تشکیل پائے قریباً نو سال ہو چکے ہیں اور اس دوران صرف پانچ مقدمات کا ہی فیصلہ سنایا جا سکا ہے اور ان میں سے بھی تین میں مجرم نے حکام کے ساتھ تعاون کا فیصلہ کیا تھا۔
چنانچہ یہ ممکن نہیں کہ گوانتانامو میں اسامہ بن لادن کے خلاف مقدمہ امریکیوں کو وہ اطمینان بخشتا جو اس کی ہلاکت سے ملا ہے۔
یہ بھی ایک سوال ہے کہ کیا اسامہ کو کسی بین الاقوامی فورم پر پیش نہیں کیا جا سکتا تھا؟ یہ سبھی مانتے ہیں کہ القاعدہ کی کارروائیوں کو اکثر صرف امریکہ کی بجائے دنیا بھر کے ممالک کے لیے خطرے کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔
لیکن اسامہ بن لادن کو نائن الیون حملوں کے لیے انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں پیش نہیں کیا جا سکتا تھا کیونکہ اس عدالت کی حدود کا اطلاق سنہ 2002 سے ہوتا ہے۔

کیا اسامہ بن لادن پر مقدمہ چلنا ان کے مداحوں میں اضافے کی وجہ بنتا؟
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل ایک عبوری ٹربیونل بنا سکتی تھی جیسے کہ اس نے روانڈا اور سابق یوگوسلاویہ کے حوالے سے کیا تھا۔ لیکن ان معاملات میں عالمی برادری ان افراد کو ایک پیغام دینا چاہتی تھی جنہوں نے نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کیے۔
دہشتگردی کے معاملے میں کسی ٹربیونل کی تشکیل کی واحد مثال، لبنان میں بنایا گیا خصوصی ٹربیونل ہے اور یہ کوئی اچھی مثال نہیں۔
سابق لبنانی وزیراعظم رفیق حریری کے قتل کی تحقیقات کے لیے یہ ٹربیونل 2007 میں بنایا گیا تھا اور ابھی تک اس میں مقدمہ نہیں چلایا گیا اور بہت سوں کا خیال ہے کہ مشرقِ وسطٰی کی حساس سیاسی صورتحال کی وجہ سے شاید اس میں کبھی بھی مقدمہ نہ چل سکے۔
کسی عالمی فورم پر بن لادن کے خلاف مقدمہ چلایا جانا اس سوال کو بھی جنم دیتا کہ کیا انصاف کے حصول کے لیے امن کو خطرے میں تو نہیں ڈالا جا رہا۔ پاکستان اور افغانستان میں عدم استحکام اور عرب ممالک میں مظاہروں کے بعد مشرقِ وسطٰی کا غیر یقینی مستقبل بھی اس معاملے میں اہم کردار ادا کرتا۔لیکن اگر یہ تصور بھی کر لیا جائے کہ ان مشکلات پر قابو پا لیا جاتا اور اسامہ بن لادن پر سلوبوڈان ملازووچ یا لائیبریا کے صدر چارلس ٹیلر کی طرح مقدمہ چلتا تو کیا انصاف کے تقاضے پورے ہوتے؟ یہ ضروری نہیں۔ استغاثہ کو ثابت کرنا پڑتا کہ بن لادن ورلڈ ٹریڈ سنٹر حملوں کے ذمہ دار ہیں اور یہ کہ انہوں نے امریکہ میں ہزاروں افراد کو ہلاک کرنے کی سازش رچی تھی۔
ملازووچ کے مقدمے میں بھی نیت کو ثابت کرنا ایک مشکل کام تھا جو کہ ان کی مقدمے کے دوران ہلاکت کی وجہ سے مکمل نہیں کرنا پڑا جبکہ چارلس ٹیلر کے مقدمے میں بھی تانے بانے جوڑنا ایک مشکل مرحلہ ثابت ہوا۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ اگر مقدمہ چلتا تو اسامہ بن لادن کا اپنے دفاع میں دیا جانے والا بیان اسلامی شدت پسندوں کے پروپیگنڈے کو کس طریقے سے مہمیز بخشتا۔
ونسٹن چرچل نے کبھی اس بات پر افسوس ظاہر نہیں کیا کہ انہوں نے نازی رہنماؤں کے خلاف کارروائی کے اپنے فیصلے کو مشورے کے بعد تبدیل کر دیا تھا لیکن اگر براک اوباما نے اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کا حکم دیا تھا تو وہ اس کے دفاع میں ٹھوس دلائل بھی دے سکتے ہیں۔
BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔