آخری وقت اشاعت:  جمعرات 5 مئ 2011 ,‭ 15:18 GMT 20:18 PST

اسامہ کی ہلاکت کے بعد: لائیو اپ ڈیٹس

القاعدہ کے بانی اور سربراہ اسامہ بن لادن کی اتوار کی شب پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں امریکی فوج کے خصوصی دستوں کی کارروائی میں ہلاکت کے بعد کی صورتحال پر لائیو اپ ڈیٹس۔

یہ صفحہ مسلسل اپ ڈیٹ ہوتا رہے گا اور ٹائم لائن میں دیا جانے والا وقت پاکستان کا ہے

شام 07:00

پاکستان کے عسکری حکام کے مطابق القاعدہ مالی معاملات پر تقسیم ہو چکی ہے اور ایمن الظواہری نے اسامہ بن لادن کو ’سائیڈ لائن‘ کر دیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ سینئر رہنماوں سمیت سو سے زائد القاعدہ ارکان کی گرفتاری یا ہلاکت میں آئی ایس آئی کے کلیدی کردار کے باوجود اس کی خدمات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق آئی ایس آئی میں اندرونی طور پر انٹیلیجنس میں ناکامی کے حوالے سے انکوائری شروع کر دی گئی ہے اور ذمہ دار افراد کو سزا دی جائے گی۔

شام 06:34

پاکستانی عسکری حکام کا کہنا ہے کہ ایبٹ آباد سے حال ہی میں پکڑنے جانے والا ایک اور دہشتگردی عمر پاتک اگرچہ معلومات کا خزانہ ثابت ہوا ہے لیکن اس کا اسامہ سے کوئی تعلق نہیں۔

شام 06:30

ہارون رشید کے مطابق عسکری حکام کا کہنا ہے کہ اسامہ بن لادن کی اہلیہ کے بیان کے مطابق وہ پانچ برس کے بعد اس کمرے سے باہر نکلی ہیں اور اسامہ بھی اس سارے عرصے میں وہیں تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ اسامہ کی تین بیویوں کو حراست میں لیا گیا ہے جن کے ساتھ تیرہ بچے بھی تھے تاہم یہ واضح نہیں کہ ان میں سے کتنے بچے اسامہ کے ہیں۔

شام 06:14

بی بی سی اردو کے نامہ نگار ہارون رشید کے مطابق پاکستان کے عسکری حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اس آپریشن کے بارے میں مطلع کرنا چاہیے تھا اور تعاون دو طرفہ ہونا چاہیے۔

اسلام آباد میں ایک بریفنگ کے دوران اعلٰی عسکری حکام نے تسلیم کیا کہ انہیں امریکی آپریشن کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں تھی جبکہ اس آپریشن کے سلسلے میں پاکستان کے کچھ خفیہ معلومات امریکہ کو دی تھیں۔

حکام نے یہ بھی بتایا کہ عربی زبان بولنے والے فرد کی وجہ سے یہ آپریشن ہوا جبکہ انہوں نے سعودی عرب کی جانے والی کچھ کالز بھی ٹریس کی ہیں جس میں رقوم کی منتقلی کا ذکر ہے۔

شام 05:31

یورپی یونین کے ترجمان مائیکل مین کے مطابق ان سوالات کے باوجود کہ اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی سے پاکستان کیسے بےخبر رہا، اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان اس خطے میں ایک اہم پارٹنر ہے۔

شام 05:24

بی بی سی کے فرینک گارڈنر کا کہنا ہے کہ یہ بہت ضروری ہے کہ امریکہ آپریشن جیرونیمو کی تفصیلات واضح کرے تاکہ مزید سازشی نظریات سامنے نہ آئیں جو کہ پہلے ہی کئی مسلم ممالک میں پھیل رہے ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ نائن الیون حملے القاعدہ کا کام ہی نہیں تھے۔

شام 04:40

دفاعی تجزیہ کار پرویز ہود بوائے نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پاکستان میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو یہ ماننا چاہتے ہیں کہ اسامہ بن لادن زندہ ہیں جبکہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد یہ جاننا چاہتی ہے کہ امریکی کمانڈوز کو پاکستانی سرزمین پر کارروائی کی اجازت کیسے دی گئی۔

شام 03:33

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حقوقِ انسانی کے لیے اقوامِ متحدہ کی اعلٰی اہلکار نوی پلے کا کہنا ہے کہ ایبٹ آباد میں امریکی آپریشن کے ’مخصوص حقائق کی مکمل تفصیل فراہم کی جانی چاہیے‘۔

شام 03:00

سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر کا کہنا ہے کہ جیسے ہی امریکی آپریشن مکمل ہوا امریکی جوائنٹ چیفس کے سربراہ ایڈمرل مائیکل مولن نے پاکستانی فوج کے سربراہ کو فون پر اس کی کامیابی کی اطلاع دی اور اس کے بعد ہی امریکی صدر نے اپنے پاکستانی ہم منصب کو فون کیا۔

دوپہر 02:25

پاکستان کے سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر کے مطابق آئی ایس آئی پر لگائے جانے والے الزامات صحیح نہیں اور اس کا القاعدہ سے تعلق جوڑا جانا ایک جھوٹا الزام ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک خفیہ آپریشن تھا اور امریکی ہیلی کاپٹر کی نشاندہی نہ ہونے کی وجہ ان کا نچلی پرواز کرتے ہوئے ریڈار کی آنکھ سے اوجھل رہنا تھا۔

دوپہر02:17

اسلام آباد سے بی بی سی اردو کے نامہ نگار حفیظ چاچڑ کا کہنا ہے کہ پاکستانی سیکرٹری خارجہ نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ امریکی آپریشن کے بارے میں پاکستانی حکومت اور پاکستانی فوج کو پہلے مطلع نہیں کیا گیا تھا۔

ان کے مطابق پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی درست نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس امریکی کارروائی سے کئی قانونی اور اخلاقی سوالات پیدا ہوئے ہیں۔

دوپہر :02:00

ایبٹ آباد میں بی بی سی اردو کی نخبت ملک کا کہنا ہے کہ اسامہ بن لادن کے خلاف کیے جانے والے آپریشن کے تین دن بعد اب ایبٹ آباد شہر میں زندگی معمول پر آ گئی ہے۔

گزشتہ تین دنوں کے دوران نظر آنے والے غیر معمولی حفاظتی انتظامات اب موجود نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اسامہ بن لادن کی جائے پناہ تو اگرچہ ابھی تک سربمہر ہے لیکن اس احاطے میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے علاوہ عام لوگ بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں جو ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کے ساتھ تصویریں کھنچوا رہے ہیں۔

دوپہر 01:13

بی بی سی کے علیم مقبول کے مطابق ایبٹ آباد کے شہریوں نے اسامہ کی ہلاکت پر ملا جلا ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ان کے مطابق شہر میں بےچینی پائی جاتی ہے۔

کچھ شہریوں کو خدشہ ہے کہ اسامہ کی ہلاکت کا بدلہ پاکستانیوں سے لیا جائے گا جبکہ کچھ اس بات پر پریشان ہیں کہ امریکیوں نے پاکستان کو اس آپریشن میں شریک کرنے کے قابل نہیں سمجھا۔

دوپہر 12:25

پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اشارہ دیا ہے کہ اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کے حوالے سے پاکستانی انٹیلیجنس کی ناکام کی تحقیقات کروائی جائیں گی۔

دورۂ پیرس کے دوران جب ان سے سوال کیا گیا کہ اسامہ کا فوجی اکیڈمی کے اتنے قریب چھپا رہنا انٹیلیجنس کی ناکامی نہیں تو وزیراعظم گیلانی نے کہا ’یہ انٹیلیجنس کی ناکامی ہو سکتی ہے‘۔

جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا اس کی باقاعدہ تحقیقات ہوں گی تو انہوں نے کہا کہ ’اس کا تو پہلے ہی حکم دے دیا گیا ہو گا‘۔

دوپہر 12:05

پاکستان کی مذہبی جماعت جماعتِ اسلامی نے جمعہ کو امریکی آپریشن کے خلاف یومِ احتجاج منانے کا اعلان کیا ہے۔ جماعت کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کے لیے پاکستانی سرزمین پر فوجی بھیج پر پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی ہے۔

جماعت کے رہنما سید منور حسن کے مطابق ’امریکیوں نے جس طرح ہماری آزادی اور خودمختاری کو کچلا ہے اب اگر پاکستان میں امریکیوں سے کسی کو کوئی ہمدردی تھی بھی تو وہ بھی ان سے نفرت کرے گا‘۔

صبح 11:45

نامہ نگار حفیظ چاچڑ کے مطابق اسامہ بن لادن کی پاکستانی سرزمین پر ہلاکت کے بعدکے صورتحال پر پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی صدارت میں تمام کورکمانڈرز کا اہم اجلاس راولپنڈی میں جاری ہے۔

یہ اجلاس اس لیے بھی اہم ہے کہ اس سارے واقعے کے بعد ابھی تک پاکستانی فوج کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

صبح 11:40

یہ واضح نہیں کہ اس عمارت کا مستقبل کیا ہوگا جہاں اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن ہوا تاہم ایبٹ آباد میں بی بی سی کے علیم مقبول کا کہنا ہے کہ لوگ بڑی تعداد میں اس مکان کو دیکھنے کے لیے آ رہے ہیں اور یہاں پکنک کا سماں ہے۔

مقامی بچے لوہے کے ٹکڑے یہ کہہ کر فروخت کر رہے ہیں کہ اس ہیلی کاپٹر کا حصہ ہیں جو گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ امریکی کمانڈوز نے جب اس ہیلی کاپٹر کو تباہ کیا تو اس کی دم کے ٹکڑے اس کمپاؤنڈ سے باہر جا گرے تھے۔

صبح 11:30

ایبٹ آباد میں موجود بی بی سی اردو کے احمد رضا کا کہنا ہے کہ بلال ٹاؤن کی مسجد کے پیش امام مولانا طارق کے مطابق اسامہ بن لادن جس مکان میں مقیم تھے اس کے دو مکین باقاعدگی سے نماز کی ادائیگی کے لیے ان کی مسجد میں آتے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ دونوں افراد بھائی تھے اور ان سے مصافحہ کی حد تک ملاقات بھی ہوتی تھی اور وہ انہیں کبھی مشکوک نہیں لگے۔

صبح 11:20

ایبٹ آباد میں بی بی سی کے علیم مقبول کا کہنا ہے کہ جہاں اسامہ بن لادن کے کچھ ہمسایوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے آپریشن سے قبل کچھ ہفتوں کے دوران اس گھر میں کوئی سرگرمی نہیں دیکھی وہیں کچھ کا کہنا ہے کہ انہوں نے عورتوں اور بچوں کو آتے جاتے دیکھا۔

صبح 11:10

امریکی حکام کی جانب سے اسامہ بن لادن کے خلاف کیے جانے والے ’آپریشن جیرونیمو‘ کی تفصیلات میں بدلاؤ آ رہا ہے۔ حکام کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ اس آپریشن میں شریک فوجیوں سے حاصل شدہ معلومات سے واقعے کی صحیح تصویر بنانے میں وقت لگ رہا ہے۔

صبح 11:01

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی تازہ تفصیلات کے مطابق اس آپریشن کے دوران امریکی فوج پر جس واحد شخص نے فائر کیا وہ اسامہ بن لادن کا پیغام رساں ابو احمد الکویتی تھا۔ ابو احمد نے اسامہ کے گھر کے ساتھ واقع مہمان خانے کے دروازے کی اوٹ سے امریکیوں پر گولی چلائی۔

امریکی حکام کے مطابق جب امریکی فوجیوں نے شیخ ابو احمد اور اس مہمان خانے میں موجود خاتون کو ہلاک کر دیا تو اس کے بعد پورے آپریشن کے دوران ان پر کوئی گولی نہیں چلی۔

bbc.co.uk navigation

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔