آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 30 اپريل 2011 ,‭ 03:59 GMT 08:59 PST

’پاکستان میں محفوظ پناہ گاہیں طالبان کی مددگار‘

طالبان مزاحمت کو دھچکا پہنچا ہے لیکن مجموعی طور پر تشدد بڑھا ہے:رپورٹ

امریکی محکمۂ دفاع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کو پاکستانی علاقے میں موجود محفوظ پناہ گاہوں سے ملنے والی مدد اتحادی فوج کی کارروائیوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔

یہ بات محکمۂ دفاع کی جانب سے افغان جنگ کے بارے میں کانگریس میں پیش کی گئی ششماہی جائزہ رپورٹ میں کہی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان کے جنوبی علاقوں میں امریکی فوج کی کارروائیوں سے طالبان مزاحمت کو دھچکا تو پہنچا ہے لیکن مجموعی طور پر نہ صرف تشدد میں اضافہ ہوا ہے بلکہ اس میں مزید اضافے کا امکان بھی ہے۔

رپورٹ میں افغان محاذ پر اتحادی افواج کو درپیش مسائل اور مشکلات ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ افغان طالبان کی پاکستان کی سرحدی علاقوں تک آسان رسائی ایک بڑا مسئلہ ہے اور وہاں موجود محفوظ ٹھکانے افغان طالبان کی بقا میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں افغان محاذ پر اتحادی افواج کو درپیش مسائل اور مشکلات ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ افغان طالبان کی پاکستان کی سرحدی علاقوں تک آسان رسائی ایک بڑا مسئلہ ہے اور وہاں موجود محفوظ ٹھکانے افغان طالبان کی بقا میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

پینٹاگون نے افغانستان میں ہونے والی پیشرفت کو کمزور قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ طالبان آنے والے مہینوں میں اپنی طاقت میں اضافے اور اتحادی اور افغان افواج کے قبضے میں جانے والے علاقے دوبارہ حاصل کرنے کی کوششیں کر سکتے ہیں اور یہ علاقے میں لڑائی کی شدت میں اضافے کی وجہ بن سکتی ہے۔

رپورٹ میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران افغانستان میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات میں اضافے کی وجہ نسبتاً کم شدید موسمِ سرما، عالمی افواج کی موجودگی میں اضافے اور طالبان کے محفوظ ٹھکانوں کے خلاف اتحادی افواج کی جارحانہ کارروائیوں کو ٹھہرایا گیا ہے۔

رپورٹ میں پینٹاگون نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں درپیش سیاسی چیلنجز اور بہتر طرزِ حکومت کی جانب سست پیش قدمی سے بھی جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

واضح رہے کہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی کی ذمہ داریاں افغان فوج کو سونپے جانے کا مرحلہ وار عمل رواں سال شروع ہوگا اور تین برس میں یہ عمل پایۂ تکمیل تک پہنچےگا جبکہ امریکی صدر براک اوباما کے اعلان کے مطابق امریکی افواج کے افغانستان سے انخلاء کا عمل بھی رواں برس جولائی سے شروع ہو جائے گا۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔