اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے
یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ عبدالمالک ریگی نے یہ بیان اپنی مرضی سے دیا ہے یا کسی دباؤ کے تحت ان سے دلوایا گیا ہے۔ دوسری جانب امریکہ نے جنداللہ کے ساتھ کسی بھی طرح کے رابطوں کی تردید کی ہے۔
نشر کیے گئے ٹی وی بیان میں ریگی نے الزام لگایا ہے کہ امریکہ نے ان کے گروپ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ انہیں فوجی ساز و سامان دے گا اور افغانستان میں ایرانی سرحد کے قریب ایک فعال اڈہ فراہم کرے گا۔
ریگی کے بقول وہ اسی سلسلے میں ایک اعلٰی امریکی عہدیدار سے ملاقات کے لیے کرغستان جا رہے تھے کہ راستے میں انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ جنداللہ پر الزام ہے کہ حالیہ برسوں میں ایران کے جنوب مشرقی علاقوں میں ہونے والے کئی جان لیوا حملوں میں اس کا ہاتھ ہے۔
اس سے پہلے ایران کے خفیہ اداروں کے وزیر حیدر مصلحی نے کہا تھا کہ جنداللہ رہنماء عبدالمالک ریگی سے تفتیش ان کے امریکی اور دیگر مغربی ملکوں سے تعلقات کو بے نقاب کرے گی۔
انہوں نے الزام لگایا تھا کہ گرفتاری سے چوبیس گھنٹے پہلے ریگی ایک امریکی اڈے پر تھے۔
ایرانی ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں حیدر مصلحی نے کہا تھا کہ ایران کے پاس مغربی ممالک کی طرف سے ریگی کی حمایت کے متعلق ٹھوس ثبوت ہیں۔
’ہمارے پاس اس شخص کے امریکی اور دیگر یورپی اور غیر یورپی ملکوں سے تعلقات کے مضبوط اور ٹھوس ثبوت ہیں۔‘
مسٹر مصلحی کا کہنا ہے کہ ریگی سے تفتیش ان سے امریکہ اور یورپ سے تعلقات کو بے نقاب کر دے گی۔
’تفتیش کے دوران ہم ان کے سامنے وہ شہادتی مواد اور دستاویزات رکھیں گے جن کا انہیں یقین بھی نہیں ہو گا کہ ہمارے پاس ہیں، جس طرح انہیں اس بات کا یقین نہیں آ رہا کہ وہ گرفتار ہو چکے ہیں۔ تفتیش کے دوران وہ ایسے انکشاف کریں گے جن سے امریکہ اور یورپ کا اصلی چہرہ سامنے آ جائے گا۔‘
ایران کے مطابق ریگی سیستان بلوچستان صوبے میں کئی بم دھماکوں اور دیگر وارداتوں میں ملوث ہیں۔
جند اللہ سنہ دو ہزار دو میں قائم کی گئی تھی اور اس کا مقصد ایران کے جنوب مشرق علاقے میں بلوچی اقلیت کی مفلسی کی طرف توجہ دلانا تھا۔
پچھلے سال اکتوبر میں ایران کے صوبے سیستان بلوچستان میں ہونے والے ایک خود کش حملے میں ساٹھ کے قریب افراد ہلاک ہوگئے تھے اور ایران نے عبدالمالک ریگی کی تنظیم جند اللہ کو اس واقعے کا ذمہ دار قرار دیا تھا اور پاکستان سے احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ حملہ آور پاکستان سے ایران میں داخل ہوئے تھے۔
پاسدارنِ انقلاب کے زمینی دستوں کے سربراہ بریگیڈیر جنرل محمد پاکپور نے ایرانی حکام پر زور دیا تھا کہ انھیں پاکستان کی سرحد عبور کر کے وہاں موجود جنداللہ کے شدت پسندوں پر حملے کی اجازت دی جائے۔پاکستان کے دفترِ خارجہ نےان الزامات کو مسترد کیا تھا۔
BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔