اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے
ایرانی بلوچوں کی ایک سیاسی جماعت ’بلوچستان نیشنل موومنٹ’ کے ایک سرکردہ سیاسی رہنماء اسماعیل امیری نے جُنداللہ کے سربراہ عبدالمالک ریگی کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے ایران پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے ’انٹرنیشنل ایوی ایشن لاز’ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی فضائی حدود سے ایک طیارے کو اتار کر عبدالمالک ریگی کو گرفتار کیا ہے اور عالمی برادری اس کا نوٹس لے۔
یہ بات انہوں نے بینکاک میں بلوچ وائس فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام منعقد ایک کانفرنس کے موقع پر بی بی سی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ عبدالمالک ریگی دہشگرد نہیں ہیں بلکہ ایران میں سنی مسلمانوں اور بلوچوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی بلوچستان میں چالیس لاکھ سے زیادہ بلوچ رہتے ہیں اور ان میں پچانوے فیصد سے زیادہ آبادی سنی مسلمان ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ایران بلوچوں پر ظلم کرتا ہے۔
ان کے مطابق عبدالمالک ریگی ایرانی بلوچوں کے نمائندہ ہیں اور وہ ایران کے مظالم کے خلاف مسلح جدوجہد کر رہے ہیں۔
عبدالمالک ریگی کے بارے میں کچھ عرصہ قبل ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ پاکستان میں ہیں اور الزام لگایا تھا کہ پاکستان کے ریاستی ادارے ان کی مدد کرتے ہیں۔ بظاہر یہ پہلا موقع ہے کہ عبدالمالک ریگی کے حق میں کسی تنظیم کی طرف سے کوئی بیان آیا ہے۔
تاہم کانفرنس میں عبدالمالک ریگی کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی۔
بلوچ وائس فاؤنڈیشن کے سربراہ منیر مینگل نے دریافت کرنے پر کہا کہ وہ جنداللہ یا اس کے سربراہ کو نہیں جانتے اور نہ ہی وہ اس بارے میں کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ ایران کے بلوچوں کے حقوق کی حمایت کرتے ہیں۔
اس سے پہلے ایران کے خفیہ اداروں کے وزیر حیدر مصلحی نے کہا تھا کہ جنداللہ رہنماء عبدالمالک ریگی سے تفتیش ان کے امریکی اور دیگر مغربی ملکوں سے تعلقات کو بے نقاب کرے گی۔
انہوں نے الزام لگایا تھا کہ گرفتاری سے چوبیس گھنٹے پہلے ایک امریکی اڈے پر تھے۔
ایرانی ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں حیدر مصلحی نے کہا کہ ایران کے پاس مغربی ممالک کی طرف سے ریگی کی حمایت سے ٹھوس ثبوت ہیں۔
’ہمارے پاس اس شخص کے امریکی اور دیگر یورپی اور غیر یورپی ملکوں سے تعلقات کے مضبوط اور ٹھوس ثبوت ہیں۔‘
مسٹر مصلحی کا کہنا ہے کہ ریگی سے تفتیش ان سے امریکہ اور یورپ سے تعلقات کو بے نقاب کر دے گی۔
’تفتیش کے دوران ہم ان کے سامنے وہ شہادتی مواد اور دستاویزات رکھیں گے جن کا انہیں یقین بھی نہیں ہو گا کہ ہمارے پاس ہیں، جس طرح انہیں اس بات کا یقین نہیں آ رہا کہ وہ گرفتار ہو چکے ہیں۔ تفتیش کے دوران وہ ایسے انکشاف کریں گے جن سے امریکہ اور یورپ کا اصلی چہرہ سامنے آ جائے گا۔‘
ایران کے مطابق ریگی سیستان بلوچستان صوبے میں کئی بم دھماکوں اور دیگر وارداتوں میں ملوث ہیں۔
فارس خبر رساں ایجنسی نے ایرانی انٹیلیجنس ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ ریگی کے ساتھ ان کی تنظیم کے دو ارکان بھی گرفتار کیے گئے ہیں۔فارس کو مقامی عدلیہ کے اہلکار نے بتایا کہ ریگی کو منگل کی صبح گرفتار کیا گیا۔ ’ریگی ابھی انٹیلیجنس کی حراست میں ہیں لیکن جلد ہی انھیں عدالتی حکام کے حوالے کر دیا جائے گا‘۔
جند اللہ سنہ دو ہزار دو میں قائم کی گئی تھی اور اس کا مقصد ایران کے جنوب مشرق علاقے میں بلوچی اقلیت کی مفلسی کی طرف توجہ دلانا تھا۔
پچھلے سال اکتوبر میں ایران کے صوبے سیستان بلوچستان میں ہونے والے ایک خود کش حملے میں ساٹھ کے قریب افراد ہلاک ہوگئے تھے اور ایران نے عبدالمالک ریگی کی تنظیم جند اللہ کو اس واقعے کا ذمہ دار قرار دیا تھا اور پاکستان سے احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ حملہ آور پاکستان سے ایران میں داخل ہوئے تھے۔
پاسدارنِ انقلاب کے زمینی دستوں کے سربراہ بریگیڈیر جنرل محمد پاکپور نے ایرانی حکام پر زور دیا تھا کہ انھیں پاکستان کی سرحد عبور کر کے وہاں موجود جنداللہ کے شدت پسندوں پر حملے کی اجازت دی جائے۔پاکستان کے دفترِ خارجہ نےان الزامات کو مسترد کیا تھا۔
سیستان بلوچستان کے گورنر جنرل کے مطابق ریگی کو ایک دلیرانہ کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ کارروائی سکیورٹی فورسز کے لیے ایک بڑی کامیابی اور ایرانی قوم کے لیے خوش خبری ہے۔
BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔