آخری وقت اشاعت:  جمعرات, 28 جنوری, 2010, 07:22 GMT 12:22 PST

’عافیہ سے تخریبی مواد نہیں ملا تھا‘

’ڈاکٹر عافیہ نےگرفتاری کے بعد تھانے سے فرار ہونے کی بھی کوشش کی تھی‘

افغان نیشنل پولیس کے ایک سابق عملدار نے اپنی گواہی میں کہا ہے کہ گرفتاری کے وقت عافیہ صدیقی کے قبضے سے نہ تو تخریبی یا دہشتگردی سے متعلق مواد بر آمد ہوا تھا اور نہ ہی انہوں نے امریکہ کے خلاف نفرت انگيز باتیں کی تھیں۔

ڈاکٹر عافیہ پر افغانستان میں امریکی سکیورٹی اہلکاروں پر مبینہ قاتلانہ حملے کے مقدمے کی سماعت کے دوران اپنی ویڈیوگواہی میں افغان نیشنل پولیس کے سابق عملدار عبدالقدیر نے یہ بھی بتایا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی ہر نقل و حرکت پر بھی افغان اہلکاروں کی نظر تھی اور یہ بھی کہ کمرے میں امریکی فوجیوں کی آمد کے بعد جب ایک امریکی فوجی افسر کمرے میں پردے کے پیچھے ڈاکٹر عافیہ والے حصے کی طرف گیا تو انہوں نےگولی چلنے کی آواز سنی۔

کمرہ عدالت میں جیوری کو دکھائي جانیوالی دفاع کے طرف سے وڈیو میں گواہ اور افغان پولیس کے عملدار نے اپنی گواہی میں بتایا کہ ڈاکٹر عافیہ نےگرفتاری کے بعد تھانے سے فرار ہونے کی بھی کوشش کی تھی۔ انہوں نے گرفتاری کے وقت اپنا نام صالحہ بتایا تھا اور کہا تھا کہ انہیں امریکہ کے حوالے نہ کیا جائے۔ گواہ نے یہ بھی کہا کہ اپنے ایک بیٹے کے ہمراہ غزنی کی مسجد سے گرفتاری کی جانے والی عافیہ صدیقی کی تحویل سے ان کے کپڑے، جوتے، میک اپ کا سامان اور پاکستانی فوج کے متعلق ایک جریدہ برآمد ہوا تھا۔

انہوں نے حکومتی وکیل کی جرح کے دوران بتایا کہ ’عافیہ صدیقی کے اللہ اکبر پکارنے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ وہ کہتی تھیں کہ میں امریکہ سے نفرت کرتی ہوں‘۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے بدھ کو کمرۂ عدالت میں مقدمے کی کارروائي سے خود کو الگ رکھا۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر عافیہ نے گذشتہ منگل کو حکومتی گواہ اور افغانستان میں امریکی فوج کے مترجم احمد جاوید امین عرف ڈیو کی گواہی ختم ہونے پر کمرہ عدالت سے اٹھ کر جاتے ہوئے کہا تھا کہ وہ عدالت میں اب کبھی نہیں آئيں گي اور انہوں نے انکا مقدم سننے والے سامعین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا ’آپ سب کو الوداع‘۔

بدھ کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی بھی موجود رہے۔

میٹرلاجی اور فزکس کے ماہر بل ٹوبن نے دفاع کی طرف سے عدالت میں اپنی گواہی کے دوران کہا کہ تحقیقات اور آزمائش کے نتیجے میں وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ استغاثہ کی کہانی کے برعکس غزنی میں کمرے کی دیوار پر موجود سوراخ ایم فور رائفل کی فائرنگ سے نہیں ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ تجربوں کی بنیاد پر وہ کہہ سکتے ہیں کہ مقدمے میں بتائي گئي دیوار پر ایم فور کی مبینہ نشان ایم فور کی گولیوں سے نہیں بنے اور نہ ہی چوبیس فٹ کی حد میں چلائے گئے اتنی بڑي ولاسٹی کے ہتھیار کے جی ایس آر (گن شاٹ ریزیڈیو) اور جی پی آر یا اس کے ذرے غائب ہو سکتے ہیں۔

دریں اثناء ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے دفاع کے وکلاء نے عدالت کو درخواست دی ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو مقدمے میں اپنی گواہی کیلیے طلب نہ کیا جائے کیونکہ انکی مبینہ موجودہ ذہنی حالت اس کی اہل نہیں جبکہ دوسری طرف امریکی حکومت کے وکلاء نے ایک درخواست کے ذریعے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ڈکٹر عافیہ صدیقی کو خود ان کی گواہی کیلیے طلب کیا جائے۔ دونوں درخواستوں پر فیصلہ جمعرات کی صبح تک متوقع ہے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔