
میں اپنی بیٹی تک پہنچنے کے لیے پناچ میل پیدل چلا۔ میں نے عمارتیں منہدم دیکھیں اور لوگ آہ و بکا کرتے نظر آئے: کیرل پیدرے
ہیٹی میں تباہ کن زلزلے کے بعد بچ جانے افراد کا کہنا ہے کہ زلزلے کے جھٹکے آتے ہی لوگ بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے فوٹو گرافر جوزف کا کہنا ہے کہ جب زلزلہ آیا تو سب کچھ ہلنے لگ گیا، لوگوں کو چیخ و پکار تھی اور گھر منہدم ہونا شروع ہوئے۔ ’میں نے ملبے تلے لوگوں کی لاشیں دیکھی اور اس میں پھنسے افراد لوگ مدد کے لیے پکار رہے تھے اور پریشانی میں ہر سمت میں بھاگ رہے تھے۔ ہر طرف افراتفری کا عالم تھا۔‘
ہیٹی کے دارالحکومت پورٹ او پرنس میں بین الاقوامی این جی او سیو دی چلڈرن کے اہلکار ایئن روجرز کا کہنا ہے کہ لوگ اپنے عزیز و اقارب کو ملبے میں تلاش کر رہے تھے۔ انہوں نے رائٹرز کو بتایا کہ ’لوگوں کی آہ و بکا سنائی دے رہی تھی اور لوگ اپنے بچوں کو ملبے میں تلاش کر رہے تھے۔ لوگ ابھی بھی ملبے میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں اور جب کوئی شخص زندہ نکالا جاتا ہے تو لوگ خوشی میں چیخیں مارتے ہیں۔‘
ہیٹی کے دارالحکومت کے علاوہ دوسرے علاقوں سے کم ہی خبریں آئی ہیں۔ لیکن پورٹ او پرنس کے جنوب کے علاقے سے گلوبل اورفن پروجیکٹ نے یو ٹیوب پر ایک ویڈیو لگائی ہے۔ اس ویڈیو میں عمارتوں کو گرتے ہوئے دکھایا ہے اور لوگ منہدم عمارتوں سے بھری سڑکوں سے گزر رہے ہیں۔
امریکی ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ کے اہلکار ہینری باہن نے امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ وہ اپنے ہوٹل کی طرف جا رہے تھے جب زمین ہلنے لگ گئی۔ ’مجھے دور سے بہت اونچی آوازیں اور چیخ و پکار کی آوازیں آ رہی تھیں‘۔
انٹرنیٹ سائٹ ٹوئٹر پر ٹروئے لِوسے نے لکھا کہ ’پورٹ او پرنس میں ویسے بھی صفائی اتنی نہیں ہوتی اس لیے رات کو نقصان کا اندازہ لگانا مشکل تھا۔ لیکن پھر آپ ایک ملبے کے ڈھیر پر پہنچتے ہیں جو پہلے ایک سپر مارکیٹ ہوا کرتی تھی۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے چیخوں کی آوازیں سنیں اور پھر گانے اور دعا مانگنے کی آوازیں۔ گانے اور دعا مانگنے کی آوازیں اس اندوہناک واقعے کے بعد یہ خوبصورت آوازیں تھیں‘۔

مجھے دور سے بہت اونچی آوازیں اور چیخ و پکار کی آوازیں آ رہی تھیں: امریکی شہری
پندرہ سالہ ویلری مولیری کو ان کے والد نے گھر کے ملبے سے نکالا۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ سڑکوں پر بغل گیر ہو رہے تھے اور رو رہے تھے۔ ’میں نے منہدم ہوئے گھر دیکھے اور لوگ سڑکوں پر پھر رہے تھے۔ کچھ لوگ جو مجھ سے آگے چل رہے تھے وہ خون میں لت پت تھے۔‘
اس زلزلے کے کچھ دیر بعد ہیٹی سے میامی جانے والے مسافروں کا کہنا تھا کہ ہوائی اڈے کو بھی بہت نقصان پہنچا تھا۔ ایک شخص کا کہنا تھا کہ ’ہوائی اڈے کی عمارت کی دیواروں پر کریک پڑ گئے تھے۔ ہم سمجھے کے عمارت پر کوئی چیز ٹکرائی ہے لیکن بعد میں معلوم چلا کہ زلزلہ آیا ہے۔‘
پورٹ او پرنس میں ٹی وی اور ریڈیو کے میزبان کیرل پیدرے نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے شہر میں وسیع پیمانے پر تباہی دیکھی۔ ’میں اپنی بیٹی تک پہنچنے کے لیے پناچ میل پیدل چلا۔ میں نے عمارتیں منہدم دیکھیں اور لوگ آہ و بکا کرتے نظر آئے۔‘
انہوں نے کہا کہ زلزلے کے مزید جھٹکے ہر پندرہ سے بیس منٹ بعد آتے تھے اور ان کا دورانیہ تین سے پانچ سیکنڈ تک کا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک تو تباہی اور دوسرے رات کے اندھیرے نے لوگوں کی مشکلات اور خوف میں مزید اضافہ کردیا۔
BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔