اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے
ہیٹی کےصدر رینے پریوال نے کہا ہے کہ ہیٹی میں شدید ترین زلزلہ آنے سے ہزاروں افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد دارالحکومت پورٹ او برنس میں رہنے والوں کی ہے۔
صدر پریوال نے کہا کہ ہیٹی میں اقوامِ متحدہ کے مشن کے سربراہ بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔ تاہم اقوامِ متحدہ نے ابھی اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔
اس سے قبل وزیراعظم ژاں ماکس بیلریو نےکہا تھا کہ ہیٹی میں آنے والے شدید ترین زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ دارالحکومت پورٹ او پرنس میں صدراتی محل سمیت تمام اہم عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ہیٹی میں 7.0 کی شدت سے آنے والا زلزلہ دو صدیوں میں سب سے خطرناک زلزلہ تھا۔
دارالحکومت پورٹ او پرنس میں اس زلزلے سے ہونے والی تباہی کی تصویر سامنے آنا شروع ہوگئی ہے۔
زلزلے کے بعد میامی ہیرالڈ کو پہلا انٹرویو دیتے ہوئے ہیٹی کے صدر رینی پرویول نے تباہی کو ناقابل تصور قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ پارلیمان تباہ ہو چکی ہے، ٹیکس کا دفتر تباہ ہو چکا ہے، سکول تباہ ہو چکے ہیں، ہسپتال تباہ ہو چکے ہیں۔۔۔ بہت سارے سکولوں کے ملبے تلے بہت سے لوگ دبے ہوئے ہیں۔‘

زلزلے سے ہیٹی کا صدارتی محل بھی منہدم ہوگیا
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ کس طرح اپنے شکستہ محل کی گری ہوئی دیواریں پھلانگ کر لاشوں اور ملبے کے نیچے دبے زخمیوں کی چیخ و پکار میں اپنے صدارتی محل سے باہر نکلے۔
انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے مشن کے ہیٹی میں تیونس سے تعلق رکھنے والے سربراہ ہیدی انابی اقوامِ متحدہ کی عمارت کے گرنے سے ہلاک ہو چکے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ وہ اس خبر کی تصدیق نہیں کرے گا لیکن جب عمارت گری تو وہ اس وقت وہاں موجود تھے اور امکان ہے کہ وہ دوسرے کئی ایک افراد کی طرح عمارت کے ملبے تلے دبے ہوں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے عملے ایک سو اہلکار ’لاپتہ‘ ہیں۔
واشنگٹن میں امریکی صدر براک اوباما نے ہیٹی کے لیے غیر متزلزل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا ہے کہ وہ اپنا بحرالکاہل کا دورہ مختصر کر کے واشنگٹن واپس پہنچ رہی ہیں۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلہ منگل کی شام مقامی وقت کے مطابق چار بج کر ترپّن منٹ پر آیا۔اس زلزلے کی ریکٹر سکیل پر شدت سات تھی اور اس کا مرکز پورٹ او پرنس کے قریب اور زیادہ گہرائی میں نہ تھا۔
عالمی ریڈکراس نے خبردار کیا ہے کہ راستے مسدود ہونے اور ہیٹی سے کسی قسم کے مواصلاتی روابط کی عدم موجودگی کی وجہ سے نقصان کا صحیح اندازہ لگانا فی الحال ممکن نہیں۔ ادارے کے مطابق تیس لاکھ افراد اس زلزلے سے متاثر ہوئے ہیں اور ان میں ہلاک شدگان، زخمی اور بےگھر افراد سب شامل ہیں۔
ہیٹی سے موصول ہونے والی ٹی وی تصاویر کے مطابق بدھ کی صبح پورٹ او پرنس کی گلیاں لاشوں اور منہدم شدہ عمارات کے ملبے سے اٹی دکھائی دیتی ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق گلیوں میں ملبے تلے دبے افراد کے چیخنے اور رونے کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں تاہم اب تک شہر میں بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں شروع نہیں ہوئی ہیں۔
گزشتہ دو صدیوں میں ہیٹی میں آنے والے اس شدید ترین زلزلے سے ہیٹی کے دارالحکومت میں اقوام متحدہ کے دفتر، صدراتی محل اور ہزاروں دیگر عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
اقوام متحدہ کی طرف سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ہیٹی میں ادارے کے مشن کے سربراہ سمیت عملے کی کئی ارکان زلزلے کے بعد سے لاپتہ ہیں۔ فرانسیسی وزیرِ خارجہ برنارڈ کچنر کا کہنا ہے ہیٹی میں فرانسیسی سفارتخانے کے عملے نے اقوامِ متحدہ کے مرکز کا دورہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ اس عمارت میں موجود ہر شخص ممکنہ طور پر ہلاک ہوچکا ہے۔
چین کا کہنا ہے کہ اس کے دس امن فوجی ملبے تلے دفن اور دس لاپتہ ہیں۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اردن کی فوج کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس کے تین امن فوجی مارے گئے ہیں جبکہ اکیس زخمی ہیں۔

امدادی کارکن ملبے تلے افراد تک رسائی کی کوشش میں مصروف ہیں
اے ایف پی نے یہ اطلاع بھی دی ہے کہ سیاحوں میں مقبول ہوٹل مونتانا میں مقیم دو سو سے زیادہ سیاح لاپتہ ہیں اور اس ہوٹل کی عمارت منہدم ہو گئی ہے۔
زلزلہ زدہ علاقے میں لوگ اپنی مدد آپ کے تحت ملبے سے لوگوں کو نکالنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ ایک مقامی صحافی کیرل پیڈرے نے بتایا کہ ’یہ بہت مشکل صورتحال ہے۔ بجلی بند ہو چکی ہے، ایسے بہت سے لوگ ہیں جن کے زخموں سے خون رس رہا ہے اور انہیں فوی طبی امداد کی ضرورت ہے، بہت سے ایسے لوگ ہیں جو تباہ شدہ عمارتوں میں دبے ہوئے ہیں جنہیں وہاں سے نکالنے کی ضرورت ہے، ہسپتال تباہ ہو چکا ہے، صدارتی محل کا بھی یہی حال ہے۔ میں نے پانچ بڑی عمارتیں گری ہوئی دیکھی ہیں۔ یہ مکمل تباہی کا منظر ہے۔‘
ہیٹی میں امریکہ کے سفیر نے اس زلزلے کو ایک قیامت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس زلزلے سے ہونے والا نقصان کئی ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔بہت سے ملک جن میں امریکہ، برطانیہ اور وینزویلا شامل ہیں فوری طور پر امداد ہیٹی روانہ کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔
زلزلے کے بعد منگل کی رات پورٹ او پرنس کا شہر مکمل طور پر تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا اور بے شمار لوگوں کھلے آسمان تلے سڑکوں پر رات گزارنے پر مجبور تھے۔ منگل کو رات گئے ایک امدادی کام کرنے والے شخص رچمانی ڈومرسینٹ نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ پورا شہر تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے اور بے شمار لوگ سڑکوں اور گلیوں میں بیٹھے ہیں اور ان کے پاس رات گزارنے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ زلزلہ زدہ علاقے پینٹووائل میں انھوں نے امدادی کام کرنے والی کسی گاڑی یا شخص کو نہیں دیکھا اور لوگ اپنی مدد آپ کے تحت ملبے سے لوگوں کو نکالنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس میں ہلاک یا زخمی کی تعداد سینکڑوں میں نہیں ہزاروں میں ہو گی۔ اس سے قبل ایک ٹرک میں گردوغبار میں اٹے زخمیوں اور لاشوں کو ہسپتال منتقل کرتے ہوئے دیکھا گیا۔
ہیٹی مغربی کرّے کا سب سے غریب ملک ہے اور گزشتہ برسوں میں یہ کئی قدرتی آفات کا شکار ہو چکا ہے۔ سن دو ہزار آٹھ میں ہیٹی میں شدید سمندری طوفان بھی آیا تھا۔
© 2012
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔