Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Tuesday, 17 november, 2009, 04:10 GMT 09:10 PST

امریکی پریستروئیکا اور پلے بوائے ندال

ریپبلکن کہہ رہے ہیں ایشیا کے دورے میں براک اوباما کا یوں بچھے جانا ان کے انتہائی غیرامریکی پن کی عکاسی کرتا ہے

صدر براک اوباما نے قوم کو پنجوں پر کھڑا کر رکھا ہے۔ کوئی دن نہیں گزرتا جب وہ کسی غیر روایتی فیصلے کا بم نہیں پھاڑتے اور پھر پوری قوم اس پر بحث میں جٹ جاتی ہے۔ لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ ابھی اس معاملے پر بحث ختم بھی نہیں ہونے پاتی کہ ایک نیا معاملہ لے آتے ہیں۔

ذرائع ابلاغ کو اور خاص طور قدامت پسند ذرائع ابلاغ کے مزے ہیں۔ ان کا بس نہیں چل رہا ورنہ وہ بھی پاکستان کے مایوس سیاستدانوں کی طرح اپنی فوج کے سربراہ، ایڈمرل مائیک ملن کو کہتے کہ ’مانا کہ تغافل نہ کرو گے، لیکن خاک ہوجائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک۔‘

لیکن ان کی مجبوری ہے کہ امریکہ میں فوج کی سیاست میں آمدورفت ممکن نہیں۔ بھلا یہ بھی کوئی بات ہوئی کہ اوباما انتظامیہ کے اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے اعلان کردیا کہ امریکہ پر گیارہ ستمبر کے مبینہ ماسٹرمائنڈ خالد شیخ محمد اور ان کے پانچ ساتھیوں کے خلاف مقدمہ گوانتانامو بے کے قیدخانے پر فوجی کمیشن کے ذریعے نہیں بلکہ نیویارک کی کھلی عدالت میں چلایا جائے گا۔

گزشتہ ہفتے کئے جانے والے اس فیصلے کے اعلان کے ساتھ ہی اس پر سخت تنقید کی جارہی ہے اور کہا جارہا ہے کہ اس سے نہ صرف شدت پسندوں کو غیر ضروری سبقت حاصل ہوگی بلکہ اس مقدمے کی سماعت کے دوران سکیورٹی انتظامات پر بھی بلاوجہ بہت بڑی رقم خرچ کی جائے گی۔ فیصلے کے نقاد یہ بھی خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ان ملزمان پر چونکہ ایسے طریقے استعمال کئے گئے ہیں جن کو عدالت میں تشدد کے طور پر ثابت کیا جاسکتا ہے اس لئے ان طریقوں سے حاصل شدہ ثبوت ہوسکتا ہے عدالت میں قابل قبول نہ ہوں۔ ایسی صورت میں ان ملزمان کو سزائیں دلانا مشکل ہو جائے گا۔

لیکن اوباما انتظامیہ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے ملزمان کے خلاف اس طرح عام عدالت میں مقدمہ چلایا جانا نہ صرف امریکی نظام انصاف کی فتح ہوگی بلکہ پوری دنیا کے یہ خدشات بھی دور ہوجائیں گے کہ امریکہ نے اپنے بدترین دشمنوں کو منصفانہ شنوائی نہیں دی۔

ایرک ہولڈر کا کہنا ہے کہ ان کے پاس خاصے شواہد موجود ہیں جن کے تحت سزائیں دلائی جا سکیں گی۔ اٹارنی جنرل کے اس بیان پر متعدد ڈیموکریٹس سمیت کئی لوگوں کو یقین نہیں۔

اودھر اوباما نے اختتام ہفتہ چین میں جس انداز سے باتیں کی ہیں وہ بھی یہاں امریکی روایتی اسٹیبلشمنٹ کو پسند نہیں۔ یہ اسٹیبلشمنٹ اوباما پر مسلسل زور ڈال رہی ہے کہ امریکہ، چین کو کھلی کھلی سنائے اور اسے کہے کہ ایران پر دباؤ ڈالنے میں امریکہ کی مدد کرے، ماضی میں چین نے جو پاکستان اور دیگر ممالک میں جوہری پھیلاؤ کیا ہے اس پر شرمندگی ظاہر کرے، شمالی کوریا کی پشت پناہی چھوڑ دے، اپنے سکے یین کی خودساختہ قدر کم رکھنے کی پالیسی ترک کرے تاکہ امریکی معیشت کو فائدہ پہنچے اور انسانی حقوق اور آزادی اظہار کی اجازت دے۔

لیکن براک اوباما نے اشاروں کنائیوں میں ان خطوط پر کچھ باتیں تو کی ہیں لیکن ان کا زور رہا ہے کہ دونوں ملکوں کے اچھے تعلقات دنیا کے بہتر مستقبل کے لئے انتہائی ضروری ہیں۔ گو امریکہ چین کا دو کھرب ڈالر کا مقروض ہے لیکن ریپبلکن کہہ رہے ہیں ایشیا کے دورے میں براک اوباما کا یوں بچھے جانا ان کے انتہائی غیرامریکی پن اور ان کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔

سوویت یونین کے آخری رہنما میخائیل گوربچوف نے اپنے گلاسنوسٹ اور پریستروئیکا کے ذریعے جب سوویت یونین کی بساط لپیٹ دی تھی تب انہوں نے ایک انتہائی پیغمبرانہ بات امریکہ کے لئے بھی کہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو بھی اپنا پریستروئیکا چاہیے۔

حالانکہ شاید امریکہ کے اپنے پریستروئیکا کا وقت ابھی نہیں آیا لیکن امریکہ میں بہت سوں کو براک اوباما سے ڈر لگنے لگا ہے۔

پلے بوائے ندال ملک حسن

گزشتہ ہفتے ٹیکساس کی فورٹ ہوڈ فوجی چھاؤنی میں فائرنگ کرکے تیرہ لوگوں کو ہلاک اور تیس کے قریب کو زخمی کرنے کے الزامات باقاعدہ طور پر میجر ندال ملک حسن پر عائد کردیئے گئے ہیں۔ لیکن اس دوران ان کی زندگی کے کئی رنگارنگ پہلو بھی سامنے آئے ہیں۔

ایک طرف جہاں ان کے اقدامات کے پیچھے ممکنہ اسلامی شدت پسندی کے بھوت اور ان کے ایک یمنی شدت پسند مولوی سے قریبی تعلقات کی تفتیش کی جارہی تو ایسے میں ان کی چھاؤنی کے قریب واقع سٹارز اسٹرپٹیز کلب (برہنہ کلب جہاں خواتین کپڑوں سے عاری ہوکر ناچ دکھاتی ہیں) کے عملے نے انکشاف کیا ہے کہ کہ میجر صاحب بڑی باقاعدگی کے ساتھ ان کے کلب کے مہمان رہتے تھے۔

ایک ڈانسر نے تو بتایا کہ حسن ان سے ایک رات میں دو دو مرتبہ گود میں بیٹھ کر ڈانس کرنے کی فرمائش کرتے تھے اور ہر فرمائش پچاس ڈالر میں پوری ہوتی تھی۔

ڈانسر کے مطابق حسن بہت الگ تھلگ رہتے تھے اور ان کو نجانے کیوں ڈانسر عورتوں کے بارے میں جاننے کا بڑا شوق ہوتا تھا اور ان سے پوچھتے تھے کہ آپ اپنی زندگی سے خوش ہیں؟

اب ان امریکیوں کو کون سمجھائے کہ مشرقی ممالک سے تعلق رکھنے والے بیشتر تماش بینوں کو لگتا ہے کہ وہ رقاصاؤں کی زندگیوں پر افسوس کریں گے اور ان کو اس ’غلاظت‘ سے نکالنے کی بات کریں گے تو شاید وہ ان پر مرمٹیں گی۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔