
وزیرستان میں فوجی کارروائی کی امریکی حکام تعریف کرتے ہیں
امریکہ کے صدر باراک اوباما نے پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کو ایک خط بھیجا ہے جس میں پاکستان سے طالبان اور القاعدہ کے خلاف کارروائی کومزید وسعت دینے پر زور دیا گیا ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق صدر اوباما کا یہ خط قومی سلامتی کے مشیر جنرل جیمز جونز نے اپنے حالیہ دورۂ پاکستان کے دوران صدر آصف علی زرداری کو پیش کیا تھا۔
اخبار نے امریکی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ صدر اوباما کے پیغام میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی نئی حکمت عملی اس وقت ہی کارگر ثابت ہو گی جب پاکستان شدت پسندوں کے خلاف اپنی کارروائی کے دائرہ کو وسیع کرے گا اور ان عناصر تک محدود نہیں رکھے گا جو اس کے شہروں اور سکیورٹی فورسز پر حملے کر رہے ہیں۔
صدر اوباما نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان کو ان عناصر کے خلاف بھی کارروائی کرنی چاہیے جو پاکستان کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرکے افغانستان کے اندر نیٹو اور امریکی افواج پر حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور وہ جو القاعدہ سے تعاون کر رہے ہیں۔

سابق صدر بش کی انتظامیہ بھی پاکستان پر کوئٹہ میں مبینہ طور پر موجود افغان طالبان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے زور ڈالتا رہا ہے
جنرل جیمز جونز نے جنوبی وزیرستان میں پاکستانی فوج کی کارروائی کی تعریف لیکن ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ جو شدت پسند شمالی وزیرستان فرار ہو گئے ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔
صدر اوباما کی طرف سے یہ خط ایک ایسے وقت ارسال کیا گیا ہے جب وہ افغانستان کے بارے میں اپنی نئی حکمت عملی کا اعلان کرنے والے ہیں اور خیال ہے کہ وہ ماہ رواں کے آخر تک افغانستان میں مزید امریکی فوجی بھیجنے کا اعلان کریں گے جیسا کہ افغانستان میں نیٹو اور امریکی افواج کے سربراہ جنرل سٹینلے میکرسٹل کی طرف سے مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
اخبار نے ایک اعلی سرکاری اہلکار کا جو اس خط کے متن سے آگاہ تھے، نام ظاہر نہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ صدر اوباما نے پاکستان کو خفیہ معلومات میں شراکت اور فوجی تعاون میں اضافے کی پیش کش بھی کی ہے۔
اخبار کے مطابق افغانستان کے بارے میں حکمت عملی وضع کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس کے ’سچوایشن رومز‘ میں ہونے والی مشاورت میں جو لوگ مزید افواج افغانستان بھیجنے کی مخالفت کر رہے تھے ان کا استدلال تھا کہ امریکہ کو افغانستان میں اتنے ہی فوجی درکار ہیں جو القاعدہ کو پاکستان کے قبائلی علاقوں تک محدود رکھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورت میں بھی القاعدہ کا افغانستان واپس آنا ممکن نہیں ہے اور اس لیے اضافی فوجیوں سے ان پر مزید دباؤ ڈالنے میں کوئی خاص مدد نہیں ملے گی۔
اخبار کے مطابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن، وزیر دفاع رابرٹ گیٹس اور چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف مائیک مولن القاعدہ افغانستان کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں رہا لیکن اگر طالبان اثر رسوخ حاصل کر لیتے ہیں تو القاعدہ کو واپس آنے میں زیادہ دشواری نہیں ہو گی۔
امریکی حکام اب پاکستان پر دوبارہ زور ڈال رہے ہیں کہ وزیرستان میں طالبان کے ساتھ ساتھ افغان طالبان کی قیادت جو مبینہ طور پر پاکستان کے جنوبی مغربی شہر کوئٹہ میں چھپی ہوئی ہے اور حقانی گروپ جو قبائلی علاقے میں موجود ہے کہ خلاف بھی کارروائی کرے۔
© MMIX