
بوشہر کے جوہری ری ایکٹر پر سنہ انیس سو چوہتر میں کام شروع ہوا تھا
روس نے کہا ہے کہ جنوبی ایران کے علاقے بوشہر میں زیر تعمیر ایک نیا جوہری ری ایکٹر منصوبے کے برعکس رواں سال کے اختتام تک مکمل نہیں ہو سکے گا۔
روس کے وزیر توانائی سرگئی سماٹکوئی نے کہا ہے کہ بعض تکنیکی مسائل کی وجہ سے مقررہ تاریخ تک جوہری پلانٹ کی تعمیر میں تاخیر ہوئی ہے۔ اس سے پہلے رواں سال کے آغاز پر روس نے کہا تھا کہ بوشہر کا جوہری پلانٹ اس سال کے آخر تک مکمل ہو جائے گا۔
بوشہر کے جوہری پلانٹ کے بارے میں روسی میڈیا نے وزیر توانائی کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’ رواں سال کے آخر تک واضح نتائج سامنے آ جائیں گے، لیکن اس کا باقاعدہ آغاز نہیں ہو سکے گا۔‘
ایران کے شہر بوشہر میں یہ ایٹمی پلانٹ سنہ انیس سو چوہتر میں جرمنی کے تعاون سے شروع کیا گیا تھا لیکن انیس سو اناسی میں اسلامی انقلاب کے بعد اس پر کام روک دیا گیا تھا۔ بعد میں انیس سو بانوے میں روس کے تعاون سے اس پلانٹ پر دوبارہ کام کا آغاز کیا گیا اور دسمبر دو ہزار سات میں متعدد بار تاخیر کے بعد ایران اور روس متفق ہو گئے کہ ایک ارب ڈالر کی لاگت سے اس پلانٹ کو مکمل کیا جائے گا۔
جوہری توانائی کا عالمی ادارہ ’ آئی اے ای اے ‘سوموار کو ایران کے جوہری پروگرام کےحوالے سے تیارہ کردہ ایک نئی رپورٹ منظر عام پر لائے گا۔
اس رپورٹ میں ایران کی یورینیم کی افزودگی کے حوالے سے سرگرمیاں اور اس کے قم میں زیر تعمیر نئے جوہری پلانٹ سے حاصل ہونے والی معلومات شامل ہونگی۔
اتوار کے روز امریکہ اور روس نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ جوہری پروگرام پر بات چیت کے لیے وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ مغرب کا خیال ہے کہ ایران نے جوہری ہتھیار بنانے کے لیے جوہری منصوبہ شروع کیا ہے جب کہ ایران کا ہمیشہ اصرار رہا ہے کہ اس کا جوہری منصوبہ پُرامن مقاصد کےلیے ہے۔
اتوار کو روس کے صدر کے ساتھ ملاقات کے بعد صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کی رفتار پر خوش نہیں ہیں۔
گزشتہ دنوں مغربی ممالک نے ایران کے ساتھ جوہری پروگرام کے حوالے سے ایک سمجھوتہ کیا تھا۔ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ہونے والے سمجھوتے کے تحت ایران کو بارہ سو کلو گرام کم افژودہ یورینیئم کو سال کے اختتام تک روس بھیجنا ہے۔بعد میں فرانس اس یورینیئم کو فیول راڈز میں تبدیل کرنا ہے تاکہ اسے تہران میں اس ریئکٹر میں استعمال کیا جا سکے جہاں میڈیکل آئیسو ٹوپس تیار کیے جاتے ہیں۔
© MMIX