صدر اوباما نے اس بات کا عندیہ بھی دیا ہے کہ چینی صدر کے ساتھ ملاقات میں وہ چین میں انسانی حقوق کے معاملے پر بھی بات چیت کریں گے کیونکہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے ان سے اس حوالے سے بات چیت کرنے کا کہہ چکی ہیں۔

صدر براک اوباما چین کے چار روزہ سرکارے دورے پر ہیں
صدر براک اوباما نے چین سے کہا ہے کہ دونوں ممالک کو یہ نہیں سوچنا چاہیے کے وہ صرف دشمن بن کر ہی رہ سکتے ہیں۔ ۔ یہ بات انھوں نے چین کے کے شہر شنگھائی میں طالب علموں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انھوں نے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میوزیم میں طالب علموں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں گزشتہ تیس برسوں میں چیلنجوں اور ناکامیوں کا سامنا رہا ہے۔ ہمارے تعلقات میں مشکلات اور اختلاف رائے رہی ہے۔ لیکن یہ تاثر غلط ہے کہ ہم حریف ہی رہ سکتے ہیں دوست نہیں۔‘
کلِک صدر اوباما کا چینی طالب علموں سے خطاب: تصاویر
صدر اوباما نے اس موقع پر اپنے چینی میزبانوں کو یاد دلایا کہ چینی شہریوں سمیت تمام لوگوں کا حق ہے کہ انھیں بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں۔
انھوں نے انسانی حقوق کے حوالے سے کہا کہ انسانی حقوق امریکہ ہی میں منفرد نہیں ہیں۔’اظہار رائے اور عبادت کی آزادی، معلومات تک رسائی اور سیاسی عمل میں شرکت عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے والے حقوق ہیں۔ یہ حقوق سب کو میسر ہونے چاہئیں بشمول لسانی اور مذہبی اقلیتوں کے۔‘
صدر اوباما نے طالب علموں سے خطاب کے بعد ان کے سوالات کے جوابات بھی دیے۔ چند دن پہلے چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں سے کہا تھا کہ وہ صدر اوباما سے جو سوالات پوچھنا چاہتے ہیں وہ پہلے سے لکھ کر بھیجیں۔
سوالات معاشی مسائل اور سیاست کے امور کے حوالے سے پوچھے گئے لیکن اس کے ساتھ ساتھ صدر اوباما سے ذاتی نوعیت کے سوالات بھی کیے گئے جیسے کہ مِشل اوباما اپنے کپڑوں کی خریداری کے لیے پیسے ادا کرتی ہیں یا نہیں۔
صدر اوباما نے اس بات کا عندیہ بھی دیا ہے کہ چینی صدر کے ساتھ ملاقات میں وہ چین میں انسانی حقوق کے معاملے پر بھی بات چیت کریں گے کیونکہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے ان سے اس حوالے سے بات چیت کرنے کا کہہ چکی ہیں۔
صدر اوباما چین کے چار روزہ سرکاری دورے پر ہیں اور وہ سوموار کو چین کے صدر ہوجن تاؤ سے رات کے کھانے پر ملاقات کریں گے۔دونوں رہنما منگل کے روز تجارتی توازن، شمالی کوریا اور ایران کے جوہری پروگرام اور موسمی تبدیلیوں کے حوالے سے بات چیت کریں گے۔
صدر اوباما نے اس بات کا عندیہ بھی دیا ہے کہ وہ چین کے خلاف انسانی حقوق کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات کے بارے میں بھی بات کریں گے کیونکہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے انھیں اس حوالے سے چینی حکومت کے ساتھ بات کرنے کا کہا ہے۔
اس سے پہلے صدر اوباما نے جاپان کے شہر ٹوکیو میں کہا تھا کہ وہ ایک مضبوط چین کا خیر مقدم کرتے ہیں اور چین کے ساتھ امریکہ کے بڑھتے ہوئے تعلقات خطے میں موجود دیگر اتحادیوں پر اثر انداز نہیں ہونگے۔
چین کے میگزین گلوبل کی جانب سے انٹر نیٹ پر کیے جانے والے ایک سروے میں شامل اسی فیصد افراد کا کہنا ہے کہ امریکہ نہیں چاہتا ہے کہ چین ترقی کرے۔
© MMIX