
امریکی فوجی حکام حاضر سروس فوجیوں کی اکتوبر میں اموات کے سولہ ایسے واقعات کے بارے میں تحقیق کر رہے ہیں جن کے بارے میں شبہہ ہے کہ یہ خود کشیاں تھیں۔
امریکی محکمہ دفاع کی سرکاری ویب سائٹ پر شائع ہونے والی خبر کے مطابق حاضر سروس فوجیوں میں خودکشی کے واقعات اکتوبر میں ستمبر کے مقابلے میں دگنے ہو گئے ہیں۔
ستمبر میں حاضر سروس فوجیوں کی اموات کے سات واقعات میں سے چار کے بارے میں تصدیق ہو چکی ہے کہ ان فوجیوں نے اپنی زندگیاں خود ختم کیں جبکہ باقی تین کے بارے میں تفتیش جاری ہے۔
اس سال جنوری سے اکتوبر تک کے عرصے میں فوج میں ایک سو تینتیس خودکشی کے واقعات سامنے آئے۔ جن میں سے نوے کے بارے میں تصدیق ہو گئی کہ یہ خود کشی کے واقعات تھے جبکہ باقی کے بارے میں ابھی تفتیش جاری ہے۔ سن دو ہزار آٹھ کے پہلے دس ماہ میں خود کشی کے ایک سو پندرہ واقعات رپورٹ کیے گئے تھے۔
فوج میں ’سوسائڈ پریونشن ٹاسک فورس‘ کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر جنرل کولین میکگوائر نے کہا کہ یہ مسئلہ فوج کو درپیش ایک بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوجیوں کو اس بارے میں آگاہ کرنے کی ضرورت ہے کہ جب کبھی وہ کسی ذہنی مشکل کا شکار ہوں تو فوری طور پر مدد حاصل کریں۔ انہوں نے کہا جتنا زیادہ فوجیوں کو مدد حاصل کرنے کے بارے میں آگاہ کیا جائےگا اتنا زیادہ اس مسئلہ کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔
خود کشی کا رجحان صرف حاضر سروس فوجیوں تک محدود نہیں ہے بلکہ ’ریزور‘ فوج میں بھی یہ مسئلہ پایا جاتا ہے۔ سن دو ہزار نو کے پہلے دس ماہ میں ایسے فوجیوں میں جو حاضر سروس نہیں ہیں خود کشیوں کے انہتر واقعات سامنے آئے جن میں سے اکتالیس کے بارے میں تصدیق ہو گئی ہے جبکہ باقی کی تفتیش جاری ہے۔
سن دو ہزار آٹھ میں اس طرح کے سینتالیس واقعات سامنے آئے تھے۔
خود کشی کے اس رجحان کو کم کرنے کے لیے فوج نے گزشتہ ماہ ایک قدم آگے جاتے ہوئے فوجیوں کی دماغی صحت کے لیے ایک پروگرام شروع کیا تھا۔ اس کا مقصد فوجیوں کی دماغی، اعصابی اور نفسیاتی کیفیت کا خیال رکھنا اور اسے بہتر بنانا ہے۔
© MMIX