
ایپک رہنما عالمی اقتصادی حالت، ماحولیاتی تبدیلی اور شمالی کوریا پر بات کریں گے
سنگاپور میں ایپک اجلاس کے شرکاء نے اتفاق کیا ہے کہ اگلے ماہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں ماحولیاتی تبدیلی پر معاہدہ ناممکن ہوگا۔ اقوام متحدہ کا اجلاس دسمبر میں کوپن ہیگن میں ہوگا۔
حکام کا کہنا ہے کہ عالمی رہنما اقوام متحدہ کے اجلاس کو ماحولیات سے متعلق معاہدوں اور اقدات کی آخری کڑی نہیں بلکہ ابتدائی قدم قرار دے رہے ہیں۔
زیریلی گیسوں کے اخراج میں کمی سے متعلق مجوزہ منصوبے کو حتمی اعلامیے تک کے لیے موخر کردیا گیا ہے۔
دریں اثناء امریکی صدر براک اوباما اور ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون تنظیم (ایپک) کے بیس دوسرے اراکین نے کانفرنس کے دوسرے روز اس بات پر غور کیا کہ کس طرح عالمی اقتصادی بحران میں بہتری لائی جا سکے۔
سنگاپور میں آسیان گروپ کے دس رہنماؤں کے ساتھ ایک غیر معمولی اجلاس کے دوران صدر اوباما نے برما کے وزیر اعظم جنرل تھین سین سے اپیل کہ وہ جمہوریت کی حامی حزب مخالف رہنما آنگ سان سوچی کو رہا کردیں۔
امریکہ کی گزشتہ حکومتوں نے کبھی بھی آسیان ممالک کے ساتھ اجلاس نہیں کیا کیونکہ امریکہ کا موقف رہا ہے کہ ایسے اجلاس کا مطلب ہوگا کہ آپ برما کی فوجی حکومت کے ساتھ ایک میز پر آمنے سامنے ہیں۔
جاپان میں سنیچر کو اپنے ایشیا کے ایک ہفتے کے دورے کے آغاز میں بات کرتے ہوئے اوباما نے علاقے کی سلامتی کے متعلق واشنگٹن کے ’غیر متزلزل‘ عہد کو دہرایا۔
ٹوکیو میں اپنے خطاب کے دوران صدر اوباما کا کہنا تھا کہ دنیا شمالی کوریا کی جانب سے جوہری خطرات کی دھمکیوں میں نہیں آئے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایشیا کے تحفظ کے لیے ان کے عہد اور ارادے نہایت مضبوط اور غیر متزلزل ہیں۔
امریکی صدر اوباما نے عالمی سطح پر چین کے وسیع تر کردار کا خیر مقدم کیا اور ایشیائی ممالک کے ساتھ مزید تعاون کا عہد کیا۔
اوباما نے ایشیا کے رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ اقتصادی ترقی میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کریں۔
اس دورے کے دوران اوباما چین اور جنوبی کوریا بھی جائیں گے۔
اوباما نے اپنے آپ کو ’امریکہ کا پہلا پیسیفک صدر‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ چین کی طاقت کو محدود کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ انہوں نے چین کے ساتھ مزید باہمی تعاون کی امید ظاہر کی۔ دوسری جانب اوباما نے یہ بھی کہا کہ وہ چین میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھانا جاری رکھیں گے۔
صدر اوباما نے شمالی کوریا پر زور دیا کہ وہ جوہری معاملے پر چھ فریقی مذاکرات کا پھر سے آغاز کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ اقتصادی میدان میں توازن قائم کرنے کے لیے ایشیائی رہنماؤں کو امریکہ برآمدات پر انحصار کم کرنا ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ امریکہ ایک نئے اقتصادی لائحہ عمل پر کاربند ہوگا جس کی بنیاد ’زیادہ بچت اور کم خرچہ‘ پر ہوگی۔
© MMIX