Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Sunday, 15 november, 2009, 12:15 GMT 17:15 PST

ایک فوجی پر دس لاکھ ڈالر سالانہ خرچ

امریکہ میں حکام کا کہنا ہے کہ گو افغانستان میں مزید امریکی فوجیوں کو بھیجنے کا فیصلہ دفاعی نوعیت کا ہے لیکن مزید فوج افغانستان بھیجنے سے بجٹ پر پڑنے والا ممکنہ بوجھ فوجیوں کی تعداد کو کم سے کم رکھنے پر مجبور کر رہا ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق سرکاری اندازوں کے مطابق مزید چالیس ہزار امریکی فوجی افغانستان بھیجنے اور افغانستان کی سکیورٹی فورس میں قابل ذکر اضافے سے، جیسا کہ افغانستان میں امریکی فوج کے اعلیٰ ترین کمانڈر جنرل سٹینلے مکرسٹل نے تجویز کیا ہے، امریکی فوج کو چالیس ارب ڈالر سے چون ارب ڈالر سالانہ کا اضافی خرچہ برداشت کرنا پڑے گا۔

اگر امریکہ چالیس ہزار سے کم فوجی افغانستان بھیجتا ہے یا ان کے مشن میں کوئی تبدیلی کرتا ہے تب بھی وائٹ ہاؤس نے جو فارمولہ بنایا ہے اس کے تحت ایک فوجی پر سالانہ دس لاکھ ڈالر خرچ ہوں گے۔

اخبار کے مطابق اگر صدر اوباما کم فوجی بھی افغانستان بھیجنے کا فیصلہ کرتے ہیں تب بھی عراق میں فوجیوں کی تعداد میں کمی سے ہونے والی ممکنہ چھبیس ارب ڈالر سالانہ کی ساری بچت افغانستان پر خرچ ہو جائے گی۔

اخبار مزید لکھتا ہے کہ اس صورت میں امریکہ کے مجموعی دفاعی بجٹ کا حجم سات سو چونتیس اب ڈالر تک پہنچ جائے گا جو کہ بش انتظامیہ کے دور میں چھ سو چھہتر ارب ڈالر کے زیادہ سے زیادہ دفاعی بجٹ سے بھی کہیں زیادہ ہے۔

اخبار کے مطابق میں ایک ایسے وقت میں جب حکومتی بجٹ بڑھ رہا ہے ، معیشت کمزور ہے اور صدر اوباما ایک مہنگا صحت عامہ کا منصوبہ منظور کروانے کی کوشش میں ہیں دفاعی بجٹ میں اس قدر اضافہ کرنا اوباما انتظامیہ کے لیے انتہائی مشکل ہو گا۔

کانگریس کے سینئر حکام پہلے ہی افغانستان میں فوجی کارروائی میں توسیع کے طویل المدتی اخرجات پر اپنی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔

صدر اوباما کے لیے ان اضافی دفاعی اخراجات کو کانگریس سے منظور کروانا مشکل ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ انھیں اس کے لیے اپنی جماعت ڈیموکریٹ پارٹی میں ممکنہ مخالفت کی بنا پر رپبلکن کا سہارا بھی لینا پڑ سکتا ہے۔

مزید فوج افغانستان بھیجنے کے معاملے پر وائٹ ہاؤس میں بند کمروں میں ہونے والے اجلاسوں میں شامل اوباما انتظامیہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر اخبار کو بتایا کہ ان ہی وجوہات کی بنا پر صدر اوباما ان اجلاسوں میں اس بات پر زور دیتے رہے کہ جو بھی دفاعی حل تجویز کیا جائے اس میں افغانستان سے جلد انخلاء کی حکمت عمل بھی شامل ہونی چاہیے۔

حکام کے مطابق فوجیوں کی تعداد کم کرنے سے اخراجات تو کم ہوں گے لیکن اس کے ساتھ ہی فوجوں کی تعداد بڑھانے کی حکمت عملی بھی اتنی مؤثر نہیں رہے گی۔ مثال کے طور پر اگر تیس ہزار فوجی بھیجے جائیں تو اس کا خرچہ پچیس ارب سے تیس ارب ڈالر سالانہ ہو گا لیکن ساتھ ہی یہ مسئلہ پیدا ہو جائے گا کہ امریکی فوجی کسی حد تک کارگر ثابت ہو سکتے ہیں۔ بیس ہزار فوجیوں کی تعیناتی سے تقریباً اکیس ارب ڈالر سالانہ اضافی خرچہ ہو گا لیکن یہ صرف افغان فوجیوں کی تربیت ہی کر سکیں گے۔

وائٹ ہاؤس کے اندازے میں ایک فوجی پر سالانہ دس لاکھ ڈالر کا خرچہ ہو گا جبکہ سن دو ہزار چھ میں کانگریس نے اندازہ لگایا تھا کہ ہر فوجی پر تین لاکھ نوے ہزار ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔

فوجی ماہرین کے مطابق یہ خرچہ اس لیے بھی زیادہ ہو گیا ہے کیونکہ کہ فوجیوں کو بارودی سرنگوں سے بچاؤ کی خاص گاڑیاں اور جاسوسی کے آلات مہیا کرنے پڑتے ہیں اور یہ افغانستان اور عراق دونوں ہی میں یکساں ہیں۔ تاہم کچھ اخراجات افغانستان کے مخصوص حالات کے باعث زیادہ ہیں۔ مثال کے طور پر افعانستان کے پُرپیچ پہاڑی علاقوں میں فوج کو ایندھن فراہم کرنے پر چار سو ڈالر فی گیلن کا اضافی خرچہ آتا ہے۔

انتظامیہ کے کچھ اندازوں کے مطابق افغانستان میں فوج اور پولیس کی تعداد کو دگنا کر کے چار لاکھ تک کرنے کے لیے اگلے پانچ برس میں پچاس ارب ڈالر تک درکار ہو ں گے۔

اوباما انتظامیہ نے جمعہ کو کہا تھا کہ وہ مالی سال دو ہزار گیارہ میں بجٹ خسارہ کم کرنے کے سلسلے میں مقامی ایجنسیوں کے بجٹ میں پانچ فی صد تخفیف کریں گے۔ امریکہ کا مالی خسارہ ایک اعشاریہ چار کھرب تک پہنچ گیا ہے۔

افغانستان میں مزید فوجیوں کو تعینات کرنے میں اخراجات ہی واحد امر مانع نہیں ہے۔ یہ بحث گزشتہ ہفتے اس وقت زور پکڑ گئی تھی جب یہ انکشاف ہوا تھا کہ افغانستان میں امریکی سفیر کارل ایکنبری نے واشنگٹن کو کئی پیغامات بھیجے ہیں جن میں افغانستان میں کمزور قیادت اور بڑھتی ہوئی کرپشن کے پیش نظر مزید فوجی افغانستان بھیجنے کے بارے میں خبردار کیا گیا ہے۔

صدر اوباما نے صدارتی عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد اکیس ہزار مزید امریکی فوجی افغانستان بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد اڑسٹھ ہزار ہو گئی تھی۔

صدر اوباما اخراجات کم کرنے کی اپنی کوششوں میں ایف ٹونٹی ٹو لڑاکا طیاروں اور دیگر پروگراموں کو ختم کرنے میں تو کامیاب ہوئے ہیں لیکن یہ بچت ڈرون اور بارودی سرنگ سے بچاؤ کی گاڑیوں پر خرچ ہو گئی۔

انہوں نے حال ہی میں مالی سال دو ہزار دس کےلیے چھ سو اسی ارب ڈالر کے دفاعی اخراجات کے بل کی منظور دی ہے جو سن دو ہزار نو کی نسبت دو اعشاریہ سات فیصد زیادہ ہے اور صدر بش کے سن دو ہزار آٹھ کے بجٹ سے ایک اعشاریہ نو فیصد زیادہ ہے۔

انتظامیہ نے اندازے لگائے ہیں کہ سن دو ہزار دس میں عراق میں فوج پر اخراجات میں پچیس ارب ڈالر کی کمی ہو گی اور یہ ساٹھ اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔

ان کا خیال میں افغانستان میں اخراجات میں اٹھارہ اعشاریہ پانچ ارب ڈالر اخراجات کا اضافہ ہو گا اور یہ پینسٹھ اعشاریہ چار ارب ڈالر پر پہنچ جائیں گے اور اس طرح دونوں جنگوں میں سات اعشاریہ ارب ڈالر کی بچت ہو سکتی ہے اگر افغانستان میں مزید فوجی نہ بھیجے گئے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔