
اوباما ایشیا کے سات روزہ دورے پر ہیں
امریکی صدر اوباما نے عالمی سطح پر چین کے وسیع تر کردار کا خیر مقدم کیا ہے اور ایشیائی ممالک کے ساتھ مزید تعاون کا عہد کیا ہے۔
ٹوکیو میں اپنے خطاب کے دوران صدر اوباما کا کہنا تھا کہ دنیا شمالی کوریا کی جانب سے جوہری خطرات کی دھمکیوں میں نہیں آئے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایشیا کے تحفظ کے لیے ان کے عہد اور ارادے نہایت مضبوط اور غیر متزلزل ہیں۔
اوباما نے ایشیا کے رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ اقتصادی ترقی میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ اس سے قبل اوباما نے سنگاپور میں ایشیا اور بحرالکاہل کی اقتصادی کانفرنس ایپک میں شرکت کی تھی۔
اس دورے کے دوران اوباما چین اور جنوبی کوریا بھی جائیں گے۔
اوباما نے اپنے آپ کو ’امریکہ کا پہلا پیسیفک صدر‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ چین کی طاقت کو محدود کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ انہوں نے چین کے ساتھ مزید باہمی تعاون کی امید ظاہر کی۔ دوسری جانب اوباما نے یہ بھی کہا کہ وہ چین میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھانا جاری رکھیں گے۔
صدر اوباما نے شمالی کوریا پر زور دیا کہ وہ جوہری معاملے پر چھ فریقی مذاکرات کا پھر سے آغاز کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ اقتصادی میدان میں توازن قائم کرنے کے لیے ایشیائی رہنماؤں کو امریکہ برآمدات پر انحصار کم کرنا ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ امریکہ ایک نئے اقتصادی لائحہ عمل پر کاربند ہوگا جس کی بنیاد ’زیادہ بچت اور کم خرچہ‘ پر ہوگی۔
© MMIX