
صدر براک اوباما افغانستان سے کئی یقین دہانیاں چاہتے ہیں
امریکی صدر براک اوباما نے افغانستان فوری طور پر مزید فوج بھیجنے کی تجاویز کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ جب تک افغانستان کی حکومت اپنی حکمت عملی اور اوقات کار کی یقین دہانی نہیں کراتی، مزید امریکیوں کی زندگیوں کو خطرے میں نہیں ڈالا جائے گا۔
براک اوباما نے افغانستان اور پاکستان سے متعلق امریکی پالیسی کا ازسرنو جائزہ لینے کے لیے بدھ کے روز اپنی جنگی کابینہ کے آٹھویں اجلاس کی صدارت کی جس میں ان کے سامنے افغانستان مزید فوج بھیجنے کا ایجنڈا سرفہرست تھا۔
افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل اسٹینلے مک کرسٹل نے سرزمین پر صورتحال کے جائزے کے بعد مزید چالیس ہزار فوجی بھیجنے کی درخواست کی ہے۔
امریکی اہلکاروں نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ صدر اوباما کے سامنے کل چار تجاویز تھیں جن میں بیس ہزار سے چالیس ہزار تک مزید فوجی بھیجنے کی سفارش کی گئی تھی لیکن اہلکاروں کے مطابق صدر اوباما نے کہا کہ وہ بغیر کسی اوقات کار اور وہاں سے نکلنے کی حکمت عملی کے بغیر افغانستان کی بدعنوان حکومت کے لیے اپنے فوجیوں کی زندگیاں خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے۔
اہلکاروں کے مطابق براک اوباما چاہتے ہیں کہ ان کو افغانستان سے نکلنے کی حکمت عملی واضع کی جائے اور افغان حکومت یہ یقین دہانی کرائے کہ وہ کتنے عرصے میں اپنے پیروں پر کھڑی ہوسکے گی؟ مقامی پولیس اور فوج کتنے عرصے میں تیار ہوگی؟ اور حکومت کے امور سے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے؟ ان تمام سوالات کے بعد ہی مزید فوج بھیجنے کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔
افغانستان کے صدر حامد کرزئی سے امریکی حکومت سخت ناخوش ہے اور حالیہ فراڈ انتخابات کے بعد تو امریکی حامد کرزئی کو ایک بااعتماد پارٹنر کے طور پر بلکل نہیں دیکھ رہے۔ براک اوباما کی انتظامیہ حامد کرزئی اور ان کے بھائی سے متعلق بدعنوانی کی رپورٹوں سے بخوبی واقف ہے اور چاہتی ہے کہ خود کو کرزئی کی پالیسیوں سے الگ دکھائے۔
اسی دوران یہ خبریں بھی سامنے آئی ہیں کہ افغانستان میں تعینات امریکی سفیر کارل ایکنبری نے مزید فوجیں بھیجنے سے خبردار کیا ہے۔ سفیر کے ایک لیک ہونے والے خط میں کہا گیا ہے کہ حالیہ حالات میں مزید فوج بھیجنے سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا۔
امریکہ کی حزب اختلاف کی ریپبلکن پارٹی اور پینٹاگون صدر براک اوباما پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ جنرل مک کرسٹل کی درخواست کے مطابق مزید فوجی بھیجے جائیں لیکن صدر اوباما نے واضع کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں جلد بازی نہیں کریں گے۔
براک اوباما اب ایشیا کے دورے پر روانا ہورہے ہیں اور واپسی کے بعد وہ افغانستان فوجیں بھیجنے کے فیصلے سے قبل اپنی جنگی کابینہ کے مزید اجلاس بلائیں گے اور افغانستان اور پاکستان کی حکومتوں سے لائحہ عمل کی یقین دہانیوں کے بعد ہی کوئی فیصلہ کریں گے۔
© MMIX