Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Friday, 13 november, 2009, 22:36 GMT 03:36 PST

فورٹ ہوڈ: میجر حسن پر قتل کا الزام عائد

میجر حسن ندال

میجر حسن ندال نے تفتیشی ٹیم سے ملنے سے انکار کر دیا ہے

امریکی ریاست ٹیکساس میں قائم فورٹ ہوڈ کی فوجی چھاؤنی میں فائرنگ کرکے بارہ فوجی اہلکاروں اور ایک سویلین کو ہلاک کرنے کے الزام میں میجر ندال ملک حسن پر قتل کے تیرہ الزامات عائد کئے گئے ہیں۔

میجر حسن پر الزام ہے کہ انہوں نے پانچ نومبر کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت فورٹ ہوڈ کے طبی معائنہ کے مرکز پر دو پستولوں سے اندھادھند فائرنگ کرکے تیرہ افراد کو ہلاک کر دیا۔

امریکی فوج کے ترجمان کرس گرے نے کہا ہے کہ تیرہ الزامات ابتدائی الزامات ہیں اور اس معاملے میں تفتیش جاری ہے اگر تفتیش کے نتیجے میں ضروری ہوا تو مزید الزامات عائد کئے جائیں گے۔

کرس گرے نے کہا کہ یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ الزامات کا عائد کیا جانا فوجی کورٹ مارشل کے طریقۂ کار کی پہلی کڑی ہے اور ان الزامات کا سامنا کرنے والے شخص کو اس وقت تک بے قصور تصور کیا جانا چاہئے جب تک الزامات ثابت نہیں ہوتے۔

میجر حسن اطلاعات کے مطابق اب ہوش میں ہیں اور بات چیت کر پا رہے ہیں تاہم انہوں نے تفتیش کاروں سے بات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

کورٹ مارشل میں میجر حسن کی پیروی ایک ریٹائرڈ فوجی کرنل جان پی گیلیگن کر رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا فورٹ ہوڈ میں میجر حسن کی منصفانہ پیروی ہوسکے گی؟

انتالیس سالہ میجر حسن امریکی فوج میں نفسیاتی ڈاکٹر تھے اور ان کی بہت جلد افغانستان میں تعیناتی ہونا تھی۔

فورٹ ہوڈ

فورٹ ہوڈ امریکی فوج کی سب سے بڑی چھاؤنی ہے

لیکن میجر حسن کے قریبی رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں تعیناتی نہیں چاہتے تھے اور فوج چھوڑنا چاہتے تھے۔ ان کے بارے میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ اکیلے پن کا شکار تھے اور کئی مرتبہ برہنہ یا سٹرپ ٹیز کلبز میں بھی راتیں گزارتے تھے۔

میجر حسن کے مقدمے پر تفتیش کرنے والی فوج اور ایف بی آئی کی مشترکہ ٹیم اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ انہوں نے یہ کارروائی اپنے طور پر کی ہے یا پھر یہ ایک دہشت گردی کی سازش کا حصہ تھی۔

ایف بی آئی کی ابتدائی تفتیش سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ میجر حسن ای میل کے ذریعے ایک یمنی نژاد امریکی مذہبی شخصیت انور العولاکی کے ساتھ بھی رابطوں میں تھے جو اب یمن چلے گئے ہیں۔ انور العولاکی نے اپنی ویب سائیٹ پر میجر حسن کو ہیرو قرار دیا ہے اور وہ خود کش حلموں کی حمایت کرتے ہیں۔

فائرنگ کے اس واقعہ کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایف بی آئی نے میجر حسن اور انور العولاکی کے درمیان ای میل کے تبادلوں کی ماضی میں تفتیش کی تھی اور انہیں بےضرر پایا تھا۔ ایف بی آئی نے اس تفتیش کے بارے میں فوج کو آگاہی نہیں دی تھی۔

اس کے علاوہ میجر حسن کے ساتھیوں نے متعدد مرتبہ اپنے سینیئر افسران کے سامنے میجر حسن کے سیاسی اور مذہبی خیالات کے علاوہ ان کی کارکردگی سے متعلق بھی تشویش ظاہر کی تھی لیکن اس پر کوئی خاص کارروائی نہیں ہوئی۔

ان اطلاعات کے پس منظر میں صدر براک اوباما نے حکم جاری کیا ہے کہ مشتبہ قاتل سے متعلق تمام طرح کی تفتیش اور اس پر کئے جانے والے اقدامات کی محکماتی کارروائی کی جائے اور اس کی رپورٹ تیس نومبر تک وائٹ ہاؤس کو پہنچائی جائے۔

میجر حسن پر اگر الزامات ثابت ہوتے ہیں تو ان کو سزائے موت ہو سکتی ہے تاہم صدر کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ موت کی سزا کو عمرقید میں بدل دیں۔ اس وقت فوجی کورٹ مارشل کے تحت نو افراد موت کا انتظار کر رہے ہیں لیکن امریکہ میں 1961 کے بعد سے اب تک کسی فوجی کی سزائے موت پر عملدرآمد نہیں ہوا ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔