
جون ایلن محمد کے وکلاء کا موقف تھا کہ ان کے موکل کی دماغی حالت درست نہیں
سنہ دو ہزار دو میں واشنگٹن ڈی سی اور اس کے گرد و نواح میں بندوق سے چھپ کر حملے کرنے والے شخص جون ایلن محمد کو ورجینیا کی ایک جیل میں زہریلا انجیکشن دے کر موت کی نیند سلا دیا گیا ہے۔
ان کی سزا پر عمل درآمد ان کی رحم کی آخری اپیل مسترد کیے جانے کے بعد کیا گیا۔ ایلن کے وکلاء کا کہنا تھا کہ ایلن دماغی طور پر بیمار شخص ہیں لیکن ورجنیا کے گورنر ٹِم کین نے اس بنیاد پر رحم کی اپیل مسترد کر دی۔
اڑتالیس سالہ جون ایلن کو ڈین ہیرالڈ میئرز کے قتل کے جرم میں سزائے موت دی گئی۔ ان کے علاوہ انہوں نے مزید نو افراد قتل کیے تھے۔
جون ایلن کے ساتھی لی بوئڈ مالو جو کہ قاتلانہ حملوں کے وقت سترہ سال کے تھے جیل میں عمر قید کی سزا گزار رہے ہیں۔
ان دونوں نے مل کر تین ہفتوں میں میری لینڈ، ورجینیا اور واشنگٹن میں کل دس افراد کو قتل کیا تھا۔
ورجینیا کے ڈیپارٹمنٹ آف کوریکشنز کے لیری ٹیلر نے بتایا کہ انجیکشن دینے کے عمل میں کل پانچ منٹ لگے اور ایلن جون مقامی وقت کے مطابق نو بجکر گیارہ منٹ پر ہلاک ہو گئے۔
ٹیلر کے مطابق ایلن جون نے مرنے سے پہلے کچھ نہیں کہا اور خاموش اور پرسکون رہے۔
مرنے سے پہلے ایلن جون نے سرخ چٹنی میں پکی ہوئی مرغی اور سٹرابیری کیک کھایا۔
© MMX