
بھارت میں پاکستانی جوڑے کو ٹرین سفر کےدوران بم دھماکے میں پانچ بچوں کی ہلاکت پر مالی امداد دی گئی ہے
ہندوستان میں ایک پاکستانی جوڑے کوحکومت کی جانب سے سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین میں دوران سفر ہونے والے بم دھماکے کے نتیجے میں ان کے پانچ بچوں کی ہلاکت پر مالی امداد دی گئی ہے۔ بچوں کے والدین نے ملنے والی رقم کو خوش آئند قرار دیا ہے لیکن ان کے مطابق وہ یہ چیک کیش نہیں کروا سکتے کیونکہ پاکستان میں بھارتی روپیہ نہیں چلتا اور ان کے پاس بھارت میں بینک اکاؤنٹ نہیں ہے۔
رانا شوکت علی کے بچے اور بیوی سمجھوتہ ایکسپریس کے ذریعے دلی سے لاہور جا رہے تھے جب فروری دو ہزار سات میں اس ٹرین کو نشانہ بنایا گیا۔ ان دو بم دھماکوں اور اس کے نتیجے میں لگنے والی آگ کے دوران پینسٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ آگ نے سمجھوتہ ٹرین کے دو ڈبوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔
علی اور ان کی بیوی نے اس واقعے کے بعد بھارتی ریلوے حکام سےامداد کی اپیل کی تھی۔ انہیں بھارتی حکومت کی جانب سےامدادی چیک دیا گیا لیکن اب انہیں یہ معلوم ہوا کہ یہ چیک پاکستان میں کیش نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے منگل کو بھارت میں ریلوے کے وزیر کے ساتھ ملاقات کی جس میں ان کے کیس کی پیروی کرنےکی استدعا کی۔
علی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ بھارتی حکام ہمیں رقم دلانے میں ہماری مدد کریں۔ چاہے اس کے لیے وہ بھارت میں ہمارا اکاؤنٹ کھلوائیں یا پاکستان میں انڈین سفارت خانے کے ذریعے ہمیں پیسے دیں۔ وقت تیزی کے ساتھ گذر رہا ہے کیونکہ 26 نومبر کو ہمارا ویزہ ختم ہو رہا ہے۔‘
پاکستانی جوڑے کو ملنے والی رقم پر کوئی اعتراز نہیں کیونکہ بھارتی ریلوے حکام انہیں چار لاکھ روپے ( آٹھ ہزار تین سو ڈالر) فی بچہ دے رہے ہیں۔
.
© MMIX