Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Wednesday, 11 november, 2009, 13:00 GMT 18:00 PST

امداد مل کر بھی نہ مل سکی

سمجھوتہ ٹرین

بھارت میں پاکستانی جوڑے کو ٹرین سفر کےدوران بم دھماکے میں پانچ بچوں کی ہلاکت پر مالی امداد دی گئی ہے

ہندوستان میں ایک پاکستانی جوڑے کوحکومت کی جانب سے سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین میں دوران سفر ہونے والے بم دھماکے کے نتیجے میں ان کے پانچ بچوں کی ہلاکت پر مالی امداد دی گئی ہے۔ بچوں کے والدین نے ملنے والی رقم کو خوش آئند قرار دیا ہے لیکن ان کے مطابق وہ یہ چیک کیش نہیں کروا سکتے کیونکہ پاکستان میں بھارتی روپیہ نہیں چلتا اور ان کے پاس بھارت میں بینک اکاؤنٹ نہیں ہے۔

رانا شوکت علی کے بچے اور بیوی سمجھوتہ ایکسپریس کے ذریعے دلی سے لاہور جا رہے تھے جب فروری دو ہزار سات میں اس ٹرین کو نشانہ بنایا گیا۔ ان دو بم دھماکوں اور اس کے نتیجے میں لگنے والی آگ کے دوران پینسٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ آگ نے سمجھوتہ ٹرین کے دو ڈبوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

علی اور ان کی بیوی نے اس واقعے کے بعد بھارتی ریلوے حکام سےامداد کی اپیل کی تھی۔ انہیں بھارتی حکومت کی جانب سےامدادی چیک دیا گیا لیکن اب انہیں یہ معلوم ہوا کہ یہ چیک پاکستان میں کیش نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے منگل کو بھارت میں ریلوے کے وزیر کے ساتھ ملاقات کی جس میں ان کے کیس کی پیروی کرنےکی استدعا کی۔

علی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ بھارتی حکام ہمیں رقم دلانے میں ہماری مدد کریں۔ چاہے اس کے لیے وہ بھارت میں ہمارا اکاؤنٹ کھلوائیں یا پاکستان میں انڈین سفارت خانے کے ذریعے ہمیں پیسے دیں۔ وقت تیزی کے ساتھ گذر رہا ہے کیونکہ 26 نومبر کو ہمارا ویزہ ختم ہو رہا ہے۔‘

پاکستانی جوڑے کو ملنے والی رقم پر کوئی اعتراز نہیں کیونکہ بھارتی ریلوے حکام انہیں چار لاکھ روپے ( آٹھ ہزار تین سو ڈالر) فی بچہ دے رہے ہیں۔

.

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔