
’یہ طیارے وسیع علاقے پر نظر رکھنے کے لیے کارآمد ہیں‘
صومالی قزاق اب صومالیہ سے کہیں دور واقع علاقوں میں کارروائیاں کرنے لگے ہیں جس کی تازہ مثال جزائر سیشلز سے چار سو بحری میل دور ایک آئل ٹینکر پر قزاقوں کا حملہ ہے۔
جس جگہ یہ کارروائی ہوئی وہ صومالیہ سے ایک ہزار ناٹیکل میل یا ایک ہزار آٹھ سو پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اب تک قزاقی کی وارداتوں میں مختلف بحری جہازوں کے عملے کے دو سو کے قریب ارکان کو یرغمال بنایا گیا ہے اور اب بمشکل ہی کوئی دن گزرتا ہے کہ قزاقی کی کوئی نئی واردات سامنے نہ آئے۔
تاہم بحرِ ہند میں صومالی قزاقوں کی بڑھتی کارروائیوں کے بعد امریکی فوج نے ان قزاقوں پر نظر رکھنے کے لیے ڈرون طیاروں کا استعمال شروع کر دیا ہے۔ انفراریڈ آئی سے لیس یہ ریپر ڈرون طیارے اٹھارہ گھنٹے تک لگاتار پرواز کر سکتے ہیں اور ان پر نصب کیمرہ پچاس ہزار فٹ کی اونچائی سے قزاقوں کی تصاویر اتار سکتا ہے۔
امریکی فوج کے کمانڈر گریگوری ہینڈ کا کہنا ہے کہ’ یہ طیارے وسیع علاقے پر نظر رکھنے کے لیے کارآمد ہیں۔ یہ ڈرون طیارے ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں تاہم ابھی انہیں ہتھیاروں سے لیس کرنے کا منصوبہ نہیں بنایا گیا ہے‘۔
قزاقوں کے خلاف ایم کیو نائن ریپر ڈرون طیارے استعمال کرنے کا خیال جرمنی کے شہر سٹٹ گارٹ میں تعینات یو ایس افریقہ کمانڈ نے پیش کیا ہے۔
ہمیں جن مشکلات کا سامنا ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہمیں ان قزاقوں پر مقدمے چلانے کے لیے ٹھوس ثبوت نہیں ملتے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ یہ قزاق ہیں لیکن یہ ثابت کرنا ایک الگ بات ہے‘۔
جوئل مارگن
افریقی ممالک اپنی سرزمین پر امریکی فوجی اڈے کے قیام کے حق میں نہیں تاہم ان ریموٹ کنٹرول ڈرون طیاروں کے استعمال سے یہ بات بھی واضح ہوئی ہے کہ.یو ایس افریقہ کمانڈ کو افریقہ میں کارروائی کے لیے اس براعظم پر کسی بڑے فوجی اڈے کی زیادہ ضرورت نہیں ہے۔
ڈرون طیاروں سے قزاقوں کی نگرانی کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ انہیں اپنی نگرانی کا احساس تک نہیں ہو پاتا۔ ڈرون طیارے انتہائی بلندی پر پرواز کرتے ہیں، ان کی نشاندہی مشکل ہے اور انہیں ریڈار پر تلاش کرنا بھی ناممکن ہے۔
یہ امید کی جا رہی ہے کہ امریکی ڈرونز کی حاصل کردہ معلومات انسدادِ قزاقی کی بین الاقومی ٹاسک فورس کے لیے ان قزاقوں کی رنگے ہاتھوں گرفتاری کا عمل آسان بنا دیں گی۔
سیشلز حکومت کی انسدادِ قزاقی مہم کے سربراہ جوئل مارگن کے مطابق ’ہمیں جن مشکلات کا سامنا ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہمیں ان قزاقوں پر مقدمے چلانے کے لیے ٹھوس ثبوت نہیں ملتے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ یہ قزاق ہیں لیکن یہ ثابت کرنا ایک الگ بات ہے‘۔
سیشلز میں اب تک مبینہ قزاقوں کے تین گروہ ثبوتوں کی عدم موجودگی کی بنا پر بری ہو چکے ہیں اور انہیں واپس صومالیہ بھجوایا گیا ہے۔ تاہم اب خیال ہے کہ ان ڈرون طیاروں سے حاصل کردہ تصاویر کو قزاقوں کے خلاف ثبوت کے طور پر استعمال کر کے انہیں سزا دلوائی جا سکے گی۔.
© MMIX