
یہودی بستیوں کی تعمیر کے معاملے پر امریکہ اسرائیل اور فلسطین میں کشیدگی پائی جاتی ہے
اطلاعات کے مطابق امریکہ کے صدر براک اوباما اور اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں مشرق وسطیٰ میں امن مذاکرات شروع کرنے کے معاملے پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔
پیر کی رات کو اسرائیل کے وزیراعظم نے وائٹ ہاؤس کے بند کمرے میں صدر اوباما سے ایک گھنٹہ اور چالیس منٹ طویل ملاقات کی لیکن اس کے بعد روایتی طور پر دونوں رہنما میڈیا کے سامنے نہیں آئے۔
ماضی میں عام طور پر اسرائیلی اور امریکی رہنما وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے بعد پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہیں۔ ملاقات کے بارے میں وائٹ ہاؤس سے صرف ایک مختصر بیان جاری ہوا ہے جس کے مطابق ’ صدر براک اوباما نے ملاقات میں اسرائیل کی سکیورٹی حوالے سے امریکی یقین دہانیوں کو دوہرایا ہے اور اس کے لیے علاوہ سکیورٹی پر تعاون کے حوالے سے متعدد پہلوؤں پر بات چیت ہوئی ہے۔‘
بیان کے مطابق صدر اوباما اور اسرائیلی وزیراعظم کے درمیان ایران کے معاملے پر اور مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے طریقہ کار پر بات چیت ہوئی ہے۔
اس سے پہلے وائٹ ہاؤس نے ملاقات کی تصدیق کرنے سے انکار کر دیا تھا جب کہ اسرائیلی حکام نے ان اطلاعات کو رد کر دیا تھا کہ بغیر دعوت نامے کے ملاقات کرنے کا مقصد اسرائیلی وزیراعظم پر دباؤ ڈالنا تھا اس کے علاوہ سوموار کو اسرائیلی وزیراعظم کی امریکہ پہنچنے کے بعد ان کی صدر اوباما کے ساتھ ملاقات کا اعلان کیا گیا تھا۔
اس سے پہلے وائٹ ہاؤس نے ملاقات کی تصدیق کرنے سے انکار کر دیا تھا جب کہ اسرائیلی حکام نے ان اطلاعات کو رد کر دیا تھا کہ بغیر دعوت نامے کے ملاقات کرنے کا مقصد اسرائیلی وزیراعظم پر دباؤ ڈالنا تھا اس کے علاوہ سوموار کو اسرائیلی وزیراعظم کی امریکہ پہنچنے کے بعد ان کی صدر اوباما کے ساتھ ملاقات کا اعلان کیا گیا تھا۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان حالیہ ملاقات اس وقت ہوئی ہے جب اسرائیل کی طرف سے بستیوں کی تعمیر کے معاملے پر اوباما انتظامیہ، اسرائیل اور فلسطین کے رہنماؤں کے درمیان شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ملاقات سے پہلے کہا تھا کہ وہ فوری طور پر امن مذاکرات شروع کرنے کے لیے تیار تھے لیکن دوبارہ سے امن بات چیت کے لیے ماحول ساز گار نہیں تھا۔
اسرائیل کے وزیراعطم نیتن یاہو نے امریکہ میں یو ایس یہودی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ معاہدے کے لیے تیار ہیں۔انھوں نے یہودی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے فلسطینی صدر محمود عباس سے آج ہونے والی بات چیت میں کہا ہے کہ اس موقع کو استعمال کرتے ہوئے ایک تاریخی معاہدہ کی جانب بڑھیں اور فوری طور پر مذاکرات کریں‘۔ انھوں نے کہا کہ ان کا مقصد ’اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ایک مستقل امن معاہدہ ہے اور جلد‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس سے پہلے کوئی بھی اسرائیلی حکومت نے امن مذاکرات شروع کرنے کے لیے یہودی بستیوں کی محدود تعمیرات کا نہیں کہا ہے‘۔
امریکہ کے صدر براک اوباما نے بھی شمالی امریکہ کی یہودی فیڈریشن کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرنا تھا لیکن فورٹ ہڈ کے ملڑی بیس پر ہونے والے حملے کے بعد وہ اب وہاں تعزیتی تقریب میں شرکت کریں گے اور ان کی جگہ اب ان کے چیف آف سٹاف اس اجلاس سے خطاب کریں گے۔
اسرائیل اور فلسطین کے درمیان بات چیت اوباما انتظامیہ کی مشرق وسطیٰ کی پالیسی کا حصہ ہے۔لیکن حالیہ دنوں امریکہ کی امن کوششوں کو دو ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ فلسطین کا کہنا ہے کہ امن مذاکرات شروع کرنے سے پہلے مقبوضہ مشرقی پٹی میں یہودی بستیوں کی تعمیر روکی جائے جبکہ امریکہ فلسطین کے اس موقف کی حمایت کر رہا ہے۔
گزشتہ ہفتے مشرق وسطیٰ کے دورے کے دوران امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کی جانب سے اسرائیل کی طرف سے بستیوں کی محدود تعمیر کی پیشکش کو ’غیر معمولی‘ قرار دینے پر فلسطین رہنماؤں نےاس پر غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔امریکہ کو امن مذاکرات شروع کرانے میں دوسرا دھچکا اس وقت لگا جب فلسطین کے صدر محمود عباس نے امن مذاکرات میں تعطل کی وجہ سے دوبارہ صدر بننے سے معذرت کر لی۔ انھوں نے الزام لگایا کہ پس پردہ امریکہ اسرائیل کو یہودی بستیوں کی تمعیر روکنے سے انکاری ہے۔