
گزشتہ دس سالوں میں شمالی سمندری سرحد پر دونوں ممالک میں دو بار مسلح تصادم ہوچکا ہے
اطلاعات کے مطابق جنوبی کوریا اور شمالی کوریا کے بحری جنگی جہازوں کے درمیان مبینہ طور پر متنازعہ سمندری حدود کی خلاف ورزی کرنے پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔
جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول سے حکام کے مطابق ان کے بحری جنگی جہاز نے شمالی کوریا کے بحری جہاز پر اس وقت فائرنگ کی جب وہ متنازعہ سمندری حدود میں داخل ہوا تھا اور اس کے بعد شمالی کوریا کے بحری جہاز نے جوابی فائرنگ کی۔
خبر رساں ایجنسی کے سی این اے کے مطابق شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ اس کے بحری جہاز نے سمندری حدود کی خلاف ورزی نہیں کی اور جنوبی کوریا اس واقعے پر معافی مانگے۔
گزشتہ دس سالوں میں شمالی سمندری سرحد پر دونوں ممالک میں دو بار مسلح تصادم ہو چکا ہے۔ خیال رہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب امریکہ کے صدر براک اوباما آئندہ چند روز میں ایشیا کا دورہ کرنے والے ہیں جبکہ شمالی کوریا نے اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکہ سے براہ راست بات چیت کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
شمالی کوریا کا موقف ہے کہ اس کا سمندری حدود کی نگرانی کرنے والا ایک جہاز ایک نامعلوم چیز کی شناخت کے لیے سمندر کی شمالی سرحد کی جانب مشن پرگیا ہوا تھا اور وہاں سے واپسی پر جنوبی کوریا کے بحری جنگی جہازوں نے اس کا پیچھا شروع کر دیا اور ایک اشتعال انگیز قدم اٹھاتے ہوئے جہاز پر فائرنگ کر دی۔
خبر رساں ایجنسی کے سی این اے کے مطابق ’شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے اشتعال انگیز قدم کا بغیر وقت ضائع کیے فوری جواب دیا‘۔ دوسری جانب جنوبی کوریا کی فوج نے بھی شمالی کوریا سے اس واقعے پر معافی کا مطالبہ کیا ہے۔حکام کے مطابق اس واقعے میں ان کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے جب کہ شمالی کوریا کا بحری جہاز جب واپس جا رہا تھا تو اس پر آگ کے شعلے دیکھے گئے تھے۔
گزشتہ ماہ شمالی کوریا کی بحری فوج نے الزام عائد کیا تھا کہ اشتعال دلانے کے لیے جنوبی کوریا کے بحری جنگی جہاز اس کی سمندری حدود کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور مستقبل میں کوئی بھی ایسی خلاف ورزی کرنے پر جوابی کارروائی کی جائے گی۔
© MMIX