
جاپان افغانستان میں امریکی بحریہ کو ایندھن فراہم کرتا رہا ہے
جاپان کی حکومت نے افغانستان کو آئندہ پانچ برسوں میں پانچ ارب ڈالر کی امداد دینے کا وعدہ کیا ہے۔ جاپان نے یہ فیصلہ امریکی صدر باراک اوباما کے ٹوکیو کے دورے سے محض چند روز پہلے کیا ہے۔
ستمبر میں بائیں نظریات کی طرف جھکاؤ رکھنے والی جاپان کی حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اعلان کیا تھا کہ وہ افغنستان میں امریکی قیادت میں عسکری کارروائیوں کے تعاون مدد بجائے افغان شہریوں کی امداد کے لیے منصوبہ بنا رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق یہ امداد لوگوں کو روزگار دلانے کے لیے تربیت، ہتھیار چھوڑنے والے طالبان کی بحالی، شعبہ زراعت کی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کے فروغ کے لیے استعمال کی جائے گی۔
وزیراعظم یوکی ہوتویامہ اس امداد کے متعلق امریکی صدر باراک اوباما سے بھی بات چیت کریں گے جو جمعہ کے روز ٹوکیو پہنچ رہے ہیں۔
اس سے قبل جاپان کی حکومت نے افغانستان میں امریکی بحریہ کے لیے ایندھن دیے جانے کے اپنے مشن کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جاپان ’میری ٹائم سیلف ڈیفنس فورس‘ پر امریکہ کی قیادت والی جنگ میں ایندھن فراہم کرنے کا کام کرتا رہا تھا جسے نئی حکومت نے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
جاپان کے وزیراعظم ہاتویامہ نے عام انتخابات میں زبردست کامیابی کے بعد ستمبر میں اقتدار سنبھالا تھا۔ ان کی جیت سے جاپان میں کئي عشروں سے جاری قدامت پسند لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے اقتدار کا خاتمہ ہوگیا تھا۔ ان کی پارٹی امریکہ سے برابری کی سطح پر تعلقات چاہتی ہے۔
جاپان اور امریکہ کے درمیان تقریباً نصف صدی پرانا اتحاد جاپان کی سکیورٹی کے لیے اہم ہے اور ایشیا میں امریکہ کی پالیسی کا اہم ستون ہے۔ لیکن دونوں میں کشیدگی کی ایک وجہ امریکی فوج کی اوکی ناوا جزیرہ پر منتقلی کا منصوبہ بھی ہے۔
امریکہ نے جاپان کی ان کوششوں کی یہ کہہ کر مخالفت کی کہ اس سے جاپان میں پچاس ہزار فوجیوں پر مشتمل امریکی فوجیوں کی تنظیم نو میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
© MMIX