Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Wednesday, 11 november, 2009, 04:50 GMT 09:50 PST

یمن کا تنازعہ، ایران کی وارننگ

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اس کی افواج ملک کے دفاع کے لیے تیار ہیں

ایران کے وزیر خارجہ منوچہر متقی نے یمن میں حکومت اور باغیوں کے درمیان ہونے والی لڑائی میں بیرونی مداخلت کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ کچھ عناصر اس بحران میں جلتی پر تیل چھڑکنے کا کام کر رہے ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ کا یہ بیان سعودی عرب کے لیے دیا گیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کے اس بیان کے دیئے جانے کے تھوڑی دیر بعد سعودی عرب کے نائب وزیر دفاع پرنس خالد بن سلطان نے کہا ہے کہ وہ اس وقت تک بمباری نہیں روکیں گے جب تک باغی سرحد سے دور نہیں ہٹ جاتے۔

سعودی عرب نے سرحد پر ایک سعودی سکیورٹی آفیسر کی ہلاکت کے بعد ہوتی قبائل کے خلاف زمینی اور فضائی حملے شروع کیئے تھے۔

ہوتی قبائل نے اپنی ویب سائٹ پر کہا ہےکہ سعودی لڑاکا طیاروں نے یمن کی سرحد کے اندر ایک گاؤں پر بمباری کی ہے جس میں دو خواتین ہلاک اور کئی بچے زخمی ہو گئے ہیں۔

انہوں نے شیدا گاؤں میں ایک سرکاری عمارت کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

گزشتہ مہینے صنا میں حکام نے کہا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے ایک بحری جہاز پکڑا ہے جس پر ہوتی قبائل کے لیے ہتھیار لدے ہوئے تھے۔

منوچہر متقی نے ایران کی مذہبی تنظیموں اور ذرائع ابلاغ پر یمن کے باغیوں کی حمایت کرنے کے الزام کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ایران علاقے کے تمام ملکوں میں استحکام اور امن کا خواہاں ہے۔

انہوں نے خطے کے تمام ملکوں کو خبر دار کیا کہ وہ احتیاط سے کام لیں۔

انہوں نے کہا کہ شدت پسندوں اور دہشت گردوں کو مالی امداد یا اسلحہ فراہم کرنے یا ان کے خلاف کارروائی کرنے کے منفی نتائج نکلیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے آگ لگائی ہے یہ آگ بہت جلد انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیے گی۔

انہوں نے خبردرا کیا کہ یمن، عراق، افغانستان اور پاکستان میں کسی قسم کا عدم استحکام پورے خطے پر اثر انداز ہو گا۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔