Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Sunday, 8 november, 2009, 16:44 GMT 21:44 PST

’القاعدہ اب افغانستان میں نہیں‘

جوک سٹرپ

سن دو ہزار نو میں افغانستان میں چورانوے برطانوی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں

برطانوی بری مسلح افواج کے سربراہ سر جوک سٹِرپ نے کہا ہے کہ اس وقت القاعدہ افغانستان میں فعال نہیں اور وہ پاکستان کے ایک نسبتاً چھوٹے علاقے میں منتقل ہونے پر مجبور ہو چکی ہے۔

تاہم سر سٹِرپ نے بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں زور دیا کہ افغانستان میں کارروائی القاعدہ کے خلاف وسیع تر مہم میں مفید ثابت ہوئی ہے۔

برطانوی وزیر دفاع باب اینزورتھ نے امریکہ سے کہا ہے کہ نیٹو کے مشن کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ وہ افغانستان کے بارے میں اپنی پالیسی جلد سے جلد وضع کرے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کی نظروں میں مشن افغانستان مکمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی کامیابیوں کو موثر انداز میں بیان کریں‘۔

سر سٹِرپ نے انٹرویو اس وقت دیا ہے جب بی بی سی کے جائزے کے مطابق ایسے برطانویوں کی تعداد جولائی کے مقابلے میں اب اٹھاون فیصد سے بڑھ کر چونسٹھ فیصد ہو گئی ہے جن میں کے خیال میں افغانستان کی جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔

سر سٹرپ نے اعتراف کیا کہ افغانستان میں پیش رفت سست ہے لیکن انہوں نے کہا کہ وہاں تعینات فوجیوں کا خیال ہے کہ انہیں کامیابیاں حاصل ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کی فوج سن دو ہزار چودہ تک اس قابل ہو گی کہ ذمہ داری سنبھال سکے۔

انہوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ القاعدہ اس وقت افغانستان میں کام نہیں کر رہی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ واپس نہیں آ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ القاعدہ پر دباؤ قائم رکھنا ضروری ہے۔

بی بی سی کے جائزے میں ایک ہزار نو لوگوں سے سوالات پوچھے گئے جن میں سے چون فیصد نے کہا کہ انہیں برطانیہ کی افغانستان میں موجودگی کے بارے میں اچھی آگاہی ہے، بیالیس فیصد نے نفی میں جواب دیا۔

اسی طرح تریسٹھ فیصد لوگوں نے کہا کہ فوج کو جلد سے جلد واپس بلا لینا چاہیے جبکہ اکتیس فیصد نے اس کی مخالفت کی۔ باون فیصد نے کہا کہ افغانستان کے انتخاب کے دوران بد عنوانی کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کے خیال میں افغانستان کی لڑائی کا جواز نہیں ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔