Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Sunday, 8 november, 2009, 12:43 GMT 17:43 PST

میناروں پر پابندی کا مجوزہ قانون

دو سو میں صرف تین مساجد کے مینار ہیں

سوئٹزرلینڈ میں میناروں پر پابندی لگانے کے بارے میں ووٹنگ سے تین ہفتے قبل ملک کے کئی حصوں میں مسلمان عام لوگوں کو مسجدوں میں آنے کی دعوت دے رہے ہیں۔

مسلمانوں کے مطابق لوگوں کو مسجدوں میں مدعو کرنے سے ان لوگوں میں مساجد کے بارے پائے جانے والے خدشات اور تعصبات کو ختم کرنے میں بہت مدد ملے گی۔

قدامت پسند پارٹی کو سوئس پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل ہے اس نے میناروں کی تعمیر پر پابندی کے بارے قانون پیش کیا ہے۔ اس پارٹی کا کہنا ہےکہ مینار مسلمانوں کی سیاسی قوت کا نشان ہیں۔

عوامی جائزوں کے مطابق میناروں پر پابندی کا مجوزہ قانون ووٹنگ میں رد ہو جائے گا۔

زیورخ میں مسلمانوں کے ایک راہمنا کا کہنا ہے کہ قدامت پرست سوئس پیپلز پارٹی کی طرف سے مجوزہ قانون تعصب پر مبنی ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں چار لاکھ مسلمان آباد ہیں اور ان کی دو سو مساجد ہیں جن میں صرف چار کے مساجد کے مینار ہیں۔

سوئٹزرلینڈ کے ایک اور مسلمان رہنما ہشام مرزا نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ غیر مسلمانوں کو مساجد میں مدعو کرنے سے غلط فہمیاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ لوگ مساجد میں جا کر بہت خوش ہوئے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔