
انہوں نے بینکوں کی ترسیلات پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز بھی پیش کی
برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن نے دنیا کے بینکوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایک نئے ’عمرانی معاہدے‘ کے تحت معاشرے کے لیے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کریں۔
سکاٹ لینڈ میں جی 20 کی کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا یہ بات قابل قبول نہیں ہے کہ بینکوں کی کامیابی کا فائدہ محض چند افراد اٹھائیں جبکہ ان کی ناکامیوں کا خمیازہ سب کو بھگتنا پڑے۔
انہوں نے بینکوں کی ترسیلات پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز بھی پیش کی تاکہ بینکوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے فنڈز مہیا کیے جاسکیں۔
انہوں نے ’قرضوں کی فضا میں تبدیلی‘ کو بھی ضروری قرار دیا۔
گورڈن براؤن نے جی 20 کے وزرائے خزانہ کو بتایا کہ ’خطرات اور فائدے‘ یکساں طور پر تقسیم کیے جانے چاہئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مالیات کا شعبہ اتنی اہمیت رکھتا ہے کہ اس کی ناکامی کی صورت میں حکومتوں کو مداخلت کرنی پڑتی ہے۔
وزیر اعظم نے دنیا کے بینکاری کے نظام میں اصلاحات کے لیے ’عالمی کوشش‘ پر زور دیا۔
اب کا کہنا تھا کہ بینکاری کے نظام کو سدھارنے کی راہ میں کئی تکنیکی اور عملی مشکلات کا سامنا رہے گا تاہم اس سے نمٹنے کے لیے’نیا اور بہتر عمرانی معاہدہ‘ ضروری ہے۔ گورڈن براؤن کا کہنا تھا کہ برطانیہ اکیلا کچھ نہیں کرسکتا جب تک کہ دیگر دنیا اس کے ساتھ نہ چلے‘۔
© MMIX