
صدر کا کہنا ہے کہ فوجی افسران ان کی حکومت کے خلاف سازش میں ملوث تھے
پیراگوائے کے صدر نے مشترکہ افواج کے سربراہ کو برطرف کر دیا ہے۔
صدر فرناندو لوگو کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ فیصلہ ان خبروں کے بعد کیا جن کے مطابق فوج کے کئی افسران ان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
دو روز پہلے صدر لوگو نے بری فوج، بحریہ اور فضائیہ کے سربراہوں کو ہٹا کر ان کی جگہ نئے کمانڈر تعینات کیے تھے۔
پیراگوائے کی حزب اختلاف نے صدر لوگو پر اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کا الزام لگایا ہے۔
صدر فرناندو لوگو نے اگست دو ہزار آٹھ میں یہ عہدہ سنبھالا تھا۔ مشرتکہ افواج کے سربراہ ایڈمیرل سیبر بینیتیز کی جگہ انہوں نے جنرل خوان اوسکار ویلازکویز کو افواج کا سربراہ بنایا ہے۔ جنرل والازکویز کو صدر کا وفادار سمجھا جاتا ہے۔
پیراگوائے ان ممالک میں شامل ہے جن میں جمہوریت کی بحالی ایک طویل فوجی حکمرانی کے دور کے بعد ہوئی ہے۔ پیراگوائے میں جمہوری نظام کی بحالی 1989 میں پینتیس سال کی فوجی حکمرانی کے بعد عمل میں آئی اور سویلیئن حکومت اور فوج کے درمیان اختلافات رہے ہیں۔
© MMX